’’اگر اس سلسلہ کا مخالف تھا اور ہمیں بُرا کہتا اور سمجھتا تھا، تو اس کا جنازہ نہ پڑھو اور اگر خاموش تاھا اور درمیانی حالت میں تھا، تو اس کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے؛ بشرطیکہ نماز جنازہ کا امام تم میں سے کوئی ہو۔ ورنہ کوئی ضرورت نہیں‘‘۔ سوال ہوا: کہ اگر کسی جگہ امام نمار حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ فرمایا : ’’پہلے تمہارا فرض ہے کہ اُسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب کرے تو ون بھی منافق ہے۔ اُس کے پیچھے نماز نہ پڑھو‘‘۔ فرمایا :’’ اگر کوئی ایسا آدمی جو تم میں سے نہیں اور اُس کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والے غیر لوگ موجود ہوں اور وہ پسند نہ کرتے ہوں کہ تم میں سے کوئی جنازہ کا پیش امام بنے اور جھگڑے کا خطرہ ہو تو ایسے مقام کو ترک کرو اور اپنے کسی نیک کام میں مصروف ہو جا ئو‘‘۔؎ٰ ۲۷ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء؁ موجودہ عیسائیت درحقیقت پُولوسی مذہب ہے فرمایا : ’’ جیسا کہ یہودی فاضل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ مذہب نصاریٰ جس میں شریعت کا کوئی پاس نہیں۔ اور سؤر کھانا اور گیر مختون رہنا وغیرہ تمام باتیں شریعت موسوی کے مخالف ہیں۔ یہ باتیں اصل میں پولوسؔ کی ایجاد ہیں۔اور اس واسطے ہم اس مذہب کو عیسوی مذہب نہیں کہہ سکتے بلکہ دراصل یہ پولوسی مذہب ہے اور ہم تعجب کرتے ہیں کہ حواریوں کو چھوڑ کر اور اُن کی رائے کے برخلاف کیوں ایسے شخص کی باتوں پر اعتبار کر لیا گیا تھا، جس کی ساری عمر یسوع کی مخالفت میں گذری تھی۔ مذہب عیسوی میں پولوس کا ایسا ہی حال ہے جیسا کہ باوانانک صاحب کی اصل باتوں کو چھوڑ کر قوم سِکھ گوروگو بند سنگھ کی باتوں کو پکڑ بیٹھی ہے۔ کوئی سند ایسی مل نہیں سکتی جس کے مطابق عمل کر کے پولوس جیسے آدمی کے خطوط اناجیل اربعہ کے ساتھ شامل کیے جا سکتے تھے۔ پولوسؔ خواہ مخواہ معتبر بن بیٹھا تھا۔ ہم اسلام کی تاریخ میں کوئی ایسا آدمی نہیں پاتے۔ جو خواہ مخواہ صحابی بن بیٹھا ہو‘‘۔ ۲؎