قرآن مجید میں اس زمانہ اور طاعون کے متعلق پیشگوئیاں
فرمایا کہ :
اس آیت قرآن کریم میں اس زمانہ اور طاعون کے متعلق پیشگوئی ہے۔
والمرسلت عرفا۔فالعصفت عصفا۔والنشرات نشرا۔فالفرقت فرقا۔فالملقیا ت ذکرا۔
عذرا او نذرا (المرسلات : ۲ تا ۷)
قسم ہے ان ہوائون کی جو آہستہ چلتی ہیں۔ یعنی پہلا وقت ایسا ہو گا کہ کوئی کوئی واقعہ طاعون کا ہو جایا کرے۔ پھر وہ زور پکڑے اور تیز ہو جاوے۔ پھر وہ ایسی ہو کہ لوگوں کو پراگندہ کر دے۔ اور پریشان خاطر کر دے۔ پھر ایسے واقعات ہوں کہ مومن اور کافر کے درمیان فرق اور تمیز کردیں۔ اس وقت لوگوں کو سمجھ آجائے گی کہ حق کس امر میں ہے۔ آیا اس امام کی اطاعت میں یا اس کی مخالفت میں۔ یہ سمجف میں آنا بعض کے لیے صرف حجت ہو گا۔ (عذراً) یعنی مرتے مرتے اُن کا دل اقرار کر جائے گا کہ ہم غلطی پر تھے اور بعض کے لیے (نذراً) یعنی ڈرانے کا موجب ہو گا کہ وہ توبہ کر کے بدیوں سے باز آویں۔؎ٰ
۱۸ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء
الہامات
فرمایا کہ آج رات کو یہ الہام ہوا :
انی مع الرسول اقوم ومن یلومہ الوم افطر واصوم
یعنی میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہو نگا۔ اُن کی مدد کروں گا اور جو اس کو ملامت کرے گا۔ اُس کو ملامت کروں۔ روزہ افطار کروں گا اور روزہ رکھوں گا یعنی کبھی طاعون بند ہو جائے گی اور کبھی زور کرے گی۔
نماز جمعہ کے بعد انجمن حمایت اسلام کا اشتہار دربارہ دعا برائے دفعیہ طاعون آپ کو دکھایا گیا۔ جس کی تحریک پر آپ نے طاعون کا مختصر اردو اشتہار لکھا۔