ایک الہام کی تشریح حضرت اقدس ؑ نے اپنا ایک پرانا الہام سنایا ۔ یا یحییٰ خذالکتاب بقوۃ والخیر کلہ فی القران۔ اور فرمایا کہ: اس میں ہم کو حضرت یحییٰ کی نسبت دی گئے ہے کیونکہ حضرت یحییٰ ؑ کویہود کی ان اقوام سے مکابلہ کرنا پڑا تھا۔ جو کتاب اﷲ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہو رہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہل حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔ اذان کے وقت کوئی اور نیکی کا کام کرنا ایک شخص اپنا مضمون اشتہار دربارہ طاعون سنا رہا تھا۔ اذان ہونے لگی۔ وہ چُپ ہو گیا۔فرمایا : ’’پڑھتے جائو۔ اذان کے وقت پڑھنا جائز ہے‘‘۔ طاعون زدہ علاقہ میں جانے کی ممانعت ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرے اہل خانہ اور بچے ایک ایسے مقام میں ہیں جہاں طاعون کا زور ہے۔ میں گھبرایا ہوا ہوں اور وہاں جانا چاہتا ہوں۔ فرمایا : ’’مت جائو۔ولا تلقو ابا یدیکم الی التھلکۃ (البقرہ : ۱۹۶) پچھلی رات کو اٹھ کر اُن کے لیے دعا کرو۔ یہ بہتر ہوگا بہ نسبت اس کے کہ تم خود جائو۔ ایسے مقام پر جانا گناہ ہے‘‘۔ قرآنی الفاظ میں الہامات کی حکمت حضرت اقدس کو الہام ہوا۔ انت معی وانا معک۔انی بایعتک با یعنی ربی۔ فرمایا کہ : اﷲ تعالی کا منشاء ہے کہ قرآن شریف کو حل کیا جائے اس واسطے اکثر الہامات جو قرآن شریف کے الفاظ میں ہوتے ہیں۔ ان کی ایک عملی تفسیر ہو جاتی ہے۔ اس سے خدا تعالیٰ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یہی زندہ اور با برکت زبان ہے اور تا کہ ثابت ہو جائے کہ تیرہ سو سال اس سے قبل ہی اسی طرح یہ خدا کا کلام نازل ہوا۔