اُمّتِ محمدی کی شان
فرمایا : عیسائیوں نے جو شور مچایا تھا کہ عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتا تھا۔اور وہ خدا تھا۔ اس واسطے غیرت الٰہی نے جوش مارا کہ دنیا میں طاعون پھیلائے اور ہمارے مقام کو بچائے تاکہ لوگوں پر ثابت ہو جائے کہ اُمت محمدی کا کیا شان ہے کہ احمد کے ایک غلام کی اس قدر عزت ہے۔ اگر عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتا تھا، تو اب عیسائیوں کے مقامات کو اِس بَلا سے بچائے۔ اس وقت غیرت الٰہی جوش میں ہے، تا کہ عیسیٰ کی کسر شان ہو۔ جس کو خدا بنایا گیا ہے۔ ؎
چہ خوش ترانہ زد ایں مطرب مقام شناس
کہ درمیان غزل قولَ آشنا آورد
قرآن میں مسیح کی معصومیّت کے ذکر کی وجہ
قرآن شریف اور احادیث میں جو حضرت عیسیٰ کے نیک اور معصوم ہونے کا ذکر ہے۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ دوسرا کوئی نیک یا معصوم نہیں بلکہ قرآن شریف اور حدیث نے ضرورتاً یہود کے منہ کو بند کرنے کیلئے یہ فقرے بولے ہیں کہ یہود تعوذباﷲ مریم کو زنا کا ر عورت اور حضرت عیسیٰ کو ولدالزنا کہتا تھے۔ اس لیے قرآن شریف نے اُن کا ذب کیا ہے کہ وہ ایسا کہنے سے باز آویں۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسمانی برکات
فرمایا : حضرت رسول کریمؐ کے ہزاروں جسمانی برکات بھی تھے۔ آپؐ کے حُبّہ سے بعد وفات آپؐ کے لوگ برکات چاہتے تھے۔ بیماریوں میں لوگوں کو شفا دیتے تھے اور بارش نہ ہوتی تو دعا کرتے تھے اور بارش ہو جاتی تھی۔ ایک لاکھ سے زیادہ آپؐ کے اصحابی تھے۔بہتوں کی جسمانی تکلیفات آپؐ کی دعائوں سے دور ہو جاتی تھیں۔ عیسیٰ کو بنی کریمؐ کے ستھ کیا نسبت ہو سکتی ہے۔ جس کے ستھ چند آدمی تھے اور ان کا حال بھی انجیلوں سے ظاہر ہے کہ وہ کس مرتبہ روحانیت کے تھے۔
اِس اُمّت کا فرعون
فرمایا : ابو جہل اس امت کا فرعون تھا، کیونکہ اس نے بھی نبی کریم کی چند دن پر ورش کی تھی جیسا کہ فرعون مصری نے حضرت موسیٰ کی پرورش کی تھی۔ اور ایسا ہی مولوی محمد حسین صاحب نے ابتداء میں براہینؔ پر ریویو لکھ کر ہمارے سلسلہ کی چند یوم پرورش کی۔