بھی آیا کہ
انانا تی الارض ننقصھا من اطرا فھا (الرعد : ۴۲)
یعنی ابتدا عوام سے ہوتا ہے اور پھر خواص پکڑے جاتے ہیں اور بعض کے بچانے میں اﷲ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے آخر میں توبہ کرنی ہوتی ہے یا اُن کی اولاد میں سے کسی نے اسلام قبول کرنا ہوتا ہے۔
مسیح موعود کا مقام
فرمایا : کمالاتِ متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے۔ وہ سب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ظلی طور پر ہم کو عطا کیے گئے۔ اور اسی لیے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، دائود، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے؛ چنانچہ ابراہیم ہمارا نام اس واسطے ہے کہ حضرت ابراہیم ایسے مقام میں پیدا ہوئے تھے کہ وہ بُت خانہ تھا اور لوگ بُت پرست تھے۔ اور اب بھی لوگوں کا یہی حال ہے کہ قسم قسم کے خیالی اور وہمی بتّوں کی پرستش میں مصروف ہیں اور وحدانیّت کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔ مولانا روم نے جوب فرمایا ہے۔ ؎
نامِ احمدؐ نام جملہ انبیاء است
چوں بیامد صد نو دہم پیش ما است
نبی کریمؐ نے گویا سب لوگوں سے چندہ وصول کیا اور وہ لوگ تو اپنے اپنے مقامات اور حالات پر رہے پر نبی کریمؐ کے پاس کروڑوں روپے ہوگئے۔
ہندو اسلام کی طرف توجہ کریں گے
فرمایا : معلوم ہوتا ہے کہ اس عالمگیر طوفانِ وبا میں یہ ہندوئوں کی قوم بھی اسلام کی طرف توجہ کرے؛ چنانچہ جب ہم نے باہر مکان بنوانے کی تجویز کی تھی۔ تو ایک ہندو نے ہم کو آکر کہا تھا کہ ہم تو قوم سے علیحدہ ہو کر آپ ہی کے پاس باہر رہا کریں گے اور نیز دو دھعہ ہم نے رویاء میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں اور ایک دفعہ الہام ہوا ہے کرشن رودرگوپال تیری مہما ہو۔ تیری استتی گیتا میں موجود ہے۔ لفظ رودر کے معنے نذیر اور گو پال کے معنے بشیر کے ہیں۔