با رعب تھی انہوں نے ریاست کا زمانہ دیکھا ہوا تھا اس لیے بڑے بلند ہمت اور عالی حوصلہ تھے ۔غر ض میں نے دیکھا کہ وہ ایک عظیم الشان تخت پر بیٹھے ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ خدا تعالیٰ ہے۔ اس میں سریّہ ہوتا ہے کہ باپ چونکہ شفقت اور رحمت میں بہت بڑا ہوتا ہے اور قرب اور تعلق شدید رکھتا ہے، اس لیے اﷲ تعالیٰ کا باپ کی شکل میں نظر آنا اس کی عنایت تعلق اور شدت محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے قرآن شریف میں بھی آیا ہے۔کذکر کم ابا ء کم (البقرہ : ۲۰۱) اور میرے الہامات میں یہ بھی ہے۔ انت منی بمنزلۃ اولا دی۔ یہ قرآن شریف کی اسی آیت کے مفہوم اور مصداق پر ہے۔ الہام ۱۰ ؍ اپریل کو الہام ہوا : ’’ افسوس صدا افسوس‘‘۔ اور ۱۱ ؍ اپریل کو الہام ہوا : ’’رہگرائے عالم جادوانی شد‘‘۔ بعثت مسیح موعود کا اصل منشاء ’’ہمارا اصل منشاء اور مدّعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر کرنا ہے اور آپ کی عظمت کو قائم کرنا۔ ہمارا ذکر تو ضمنی ہے۔ اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جذب اور افاضہ کی قوت ہے اور اسے افضہ میں ہمارا ذکر ہے۔؎ٰ ۱۷ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء؁ طاعون سے متعلق ایک اعتراض کا جواب بعد ازنماز مغرب فرمایا : طاعون کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اکثر غریب مرتے ہیں اور اُمراء اور ہمارے بڑے بڑے مخالف ابھی تک بچے ہوئے ہیں، لیکن سنت اﷲ یہی ہے کہ ائمّتہ الکفر اخیر میں پکڑے جایا کرتے ہیں ؛ چنانچہ حضرت موسیٰ کے وقت جس قدر عذاب پہلے نازل ہوئے۔ اُن سب میں فرعون بچارہا؛ چنانچہ قرآن شریف میں