مسیح مو عو د کی دعا ؤں کی عظمت ۱۰اپریل۱۹۰۲؁؁؁؁؁ء صبح کی سیر میں فر مایا کہ ,,میں آج کل طاعو ن سے قادیا ن کے محفو ظ رہنے کے لیے بہت دعائیں کرتا ہوں او باوجود اس کے کہ اللہ تعا لیٰ نے بڑے بڑے وعدے فرمائے ہیں لیکن یہ سوء ادب اور انبیاء کے طریق سے دور ہے کہ خدا کی لاید رکشان اور غِنا ء سے خوف نہ کیا جاوے ۔آج پہلے وقت ہی الہام ہوا ۔ دلم می بلرزد چو یاد آورم منا جت شورید ہ اندرحرم شوریدہ سے مراد دعا کرنے والا ہے حر م سے مراد جس پر خدا نے تباہی کو حرام کر دیا ہو اور دلم مے بلزدخدا کی طرف ہے یعنی یہ دعائیں قوی اثر ہیںمیں انھیں جلدی قبو ل کرتا ہوں۔یہ خدا تعا لیٰ کے فضل اور رحمت کا نشا ن ہے دلم مے بلرزد بظا ہر ایک غیر محل سا محاورہ ہو سکتا ہے مگر یہ اسی کے مشابہ ہے جو بخاری میں ہے کہ مومن کی جان نکا لنے میں مجھے تردد ہوتا ہے ۔ تو ریت میں جو پچتانا وغیرہ کے الفا ظ آئے ہیں ۔در اصل وہ اسی قسم کے محاور ہیں جو اس سلسلہ کی نا واقفی کی وجہ سے لوگوںنے نہیں سمجھے۔اس الہام میںخداتعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی محبت اور رحمت کا اظہار ہے اورحرم کے لفظ میں گویاحفاظت کی طرف اشارہ ہے ۔(حرم کے لفظ پر خاکسارایدیٹر نے عرض کیا تھا… من داخالہ کا ن امنا اور بھی اس لفظ حرم کی تصدیق کر تا ہے اور اب ہم کہتے ہیں کہ انی احا فظ کلمن فی دارکا الہا م بھی اسی کا مو ید ہے ۔یاد آورماسی طرح ہے جیسے اذکر و نی اذکر کم(البقرہ:۵۳) وَاَقَرِ ضُواللہ َقَرضاََحَسَناََ اللہ تعالی ٰجو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مرا د نہیں ہوتی ہے کہ معا ذ اللہ اللہ تعا لیٰ کو حا جت ہے اور وہ محتاج ہے ایسا وہم کرنا بھی کفر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزا کے ساتھ وا پس کروں گا ۔یہ ایک طریق ہے اللہ تعا لیٰ جس سے فضل کر ناچاہتا ہے ۔ باپ کی شکل پر خدا تعا لیٰ کو دیکھنا حضرت سید عبدالقا در جیلا نی رحمتہاللہ علیہ کا قول ہے رَایتُ رَبِیّ علیٰ صُو رَتہِ اَبِی یعنی میں نے اپنے ربّ کو اپنے با پ کی شکل پر دیکھا ۔ میں نے بھی اپنے والد صاحب کی شکل پر اللہ تعا لیٰ کو دیکھا ان کی شکل بڑی