نے زہر کھائی ہوئی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ بدوں تریاق وہ اس زہر کے اثر سے محفوظ رہ سکے۔عاقبت کی سزا اپنے اندر ایک فلسفیانہ حقیقت رکھتی ہے جس کو کوئی مذہب بجز اسلام کے کامل طور پر بیان نہیں کر سکا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الآخرۃ اعمی و اضل سبیلا(بنی اسرائیل:۷۳) یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا بلکہ اندھوں سے بھی بدتر۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے انسان اپنے ساتھ لے جاتا ہے جو یہاں ان حواس کو نہیں پاتاوہاں وہ ان حواس سے بہرہ ورنہیں ہوگا یہ ایک دقیق راز ہے جس کو عام لوگ سمجھ بھی نہیں اگراس کے یہ معنی نہیں تو یہ پھر بالکل غلط ہے کہ اندھے اس جہان میں بھی اندھے ہوں گے اصل بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کو بغیر کسی غلطی کے پہچاننا اور اسی دنیا میں صحیح طور پر اس کی صفات و اسماء کی معرفت حاصل کرنا آئندہ کی تمام راحتوں اور روشنیوں کی کلید ہے اور یہ آیت اس امر کی طرف صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اسی دنیا سے ہم عذاب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور اس دنیا کی کورانہ زیست اور ناپاک افعال ہی اس دوسرے عالم میں عذاب جہنم کی صورت میں نمودار ہو جائیں گے اور وہ کوئی نئی بات نہ ہوں گے۔ جیسے ایک شخص گھر کے دروازے بند کر لینے سے روشنی سے محروم ہو جا تا ہے اور تازہ اور زندگی بخش ہوا اسے نہیں مل سکتی یا کسی زہر کے کھالینے سے اس کی زندگی باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح پر جب ایک آدمی خدا کی طرف سے ہٹتا ہے اور گناہ کرتا ہے تو ایک ظلمت کے نیچے آ کر عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔گناہ اصل میں جناح تھا جس کے معنے میل کرنے اور اصل مرکز سے ہٹ جانے کے ہیں پس جب انسان خدا سے اعراض کرتا ہے اور اس نور کے مقابل سے ہٹ جاتا ہے اور اس روشنی سے دور ہو جاتا ہے جو صرف خدا کی طرف سے اترتی اور دلوں پر نازل ہوتی ہے تو وہ ایک تاریکی میں مبتلا ہوتا ہے جو اس کے لئے عذاب کا موجب ہو جاتی ہے پھر جس قسم کا یہ اعراض ہو اسی قسم کا عذاب اسے دکھ دیتا ہے لیکن اگر انسان پھر اسی مرکز کی طرف آناچاہے اور اپنے آپ کو اسی مقام پر پہنچا دے جو ایسی روشنی پڑنے کا مقام ہے تو وہ پھر اس گمشدہ نور کو پا لیتا ہے کیونکہ جیسے دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے کمرہ میں روشنی کو ایسے وقت پا سکتے ہیں جب اس کی کھڑکیاں کھول دیں ویسے ہی روحانی نظام میں مرکز اصلی کی طرف بازگشت کرنا ہی راحت کا موجب ہو سکتا ہے اور اس دکھ درد سے بچاتا ہے جو اس مرکز کے چھوڑنے سے پیدا ہوا تھا اس کا نام توبہ ہے اور یہ ظلمت جو اسی طرح پر پیدا ہوتی ہے ضلالت اور جہنم کہلاتی ہے اور مرکز اصلی کی طرف رجوع کرنا جو راحت پیدا کرتا ہے جنت سے تعبیر ہوتا ہے اور گناہ سے ہٹ کر پھر نیکی کی طرف آنا جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جاوے اس بدی کا کفارہ ہو کر اسے دور کر دیتا ہے اس کے نتائج کو بھی سلب کر دیتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان الحسنات یذھبن