مقابلہ میںنمازوں میں حاضر ہو نا مشکل معلوم ہو تا ہے اور بھی،مگر اب اگر اپنے آپ کواس کا عادی کر لوگے۔توپھر کوئی تکلیف نہ رہے گی۔ اپنی دعائوںمیں طاعون سے محفو ظ رہنے کی دعا ملا لو۔اگردعائیںکرو گے تو وہ کریم رحیم خدا احسان کرے گا۔
دعائیںکرنے کے لیے نصیحت
دیکھواب تم کام کرتے ہو ۔اپنی جانو ں اور اپنے کنبہ پر رحم…کرتے ہو ۔بچوں پر تمھیں رہم آتا ہے ۔جس طرح اب ان پر رحم کرتے ہو ۔یہ بھی ایک طر یق ہے کہ نمازوں میں ان کے لیے دعائیں کرو ۔رکوع میں بھی دعا کرو ۔پھر سجدہ میں دعاو ۔کہ اللہ تعالیٰ اس بلا کو پھیر دے اور عذاب سے محفوظ رکھے ۔جو دعا کرتا ہے ۔وہ محروم نہیں رہتا ۔یہ کبھی ممکن نہیںکہ دُعائیں کرنے والا غافل پلید کی طرح ما را جاوے ۔اگر ایسا نہ ہو تو خدا کبھی پہچانا ہی نہ جاوے ۔وہ اپنے صادق بندوں اور غیروں میں امتیاز کر لیتا ہے ۔ایک پکڑا جاتا ہے۔دوسرا بچایا جاتا ہے ۔غرض ایسا ہی کرو کہ پورے طور پر تم میں سچّا اخلاص پیدا ہو جاوے ۔؎ٰ
۱۰اپریل۱۹۰۲ء
دعا نہ کرنا سوء ادبی ہے
انبیا ء علیہم السّلام کے سلسلہ میں یہی رہا ہ کہ وہ پیشگو ئیو ں کے دئیے جانے پر بھی اور اللہ تعا لیٰ کے وعدوں پر سّچا ایمان رکھ کر بھی دعاؤں کے سلسلہ کو ہر گز نہ چھو ڑتے تھے ۔ اس لیے کہ وہ خدا تعالیٰ کے غنا ء ذاتی پر بھی ایمان لاتے ہیں اور مانتے ہیں کہ خدا کی شان لا یذرکہے اوریہ سوء ادب ہے کہ دعا نہ کی جاوے ۔ لکھا ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب آنحضرتﷺ بڑے اضطرا ب سے دعا کر رہے تھے تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے عرض کی کہ حضور !اب دعا نہ کریں ۔خدا تعالیٰ نے آپ کو فتحکا وعدہ دیا ہے ،مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم دُعا میں مصروف رہے
بعض نے اس پر تحریر کیا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم سے زیا دہ نہ
نہ تھا بلکہ آنحضرت ﷺکی معرفت بہت بڑھی ہو ئی تھی اور ہرکہ عارف تر باشد خائف تربا شد ۔وہمعرفت آپکو اللہ تعالیٰ کے غنا ء ذاتی سے ڈراتی تھی ۔ پس دعا کا سلسلہ ہر گز چھو ڑنا نہیں چا ہیے۔