پلاؤ اور پھٹے ہوئے کپڑوں کی جائے اپنی خاص پو شاک اس کو دے تو اب تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ چونکہ دراصل تو بادشاہ تھا۔قاب ان لوگو ں سے کیا سلوک کرے گا۔صاف ظاہر ہے کہ انکمبختوں کو جنہوں نے باوجود مقدرت ہونے کے اس کو دھتکار دیا اور اس سے بد سلُوکی کی سخت سزا دے گا اور اس غریب کو جس نے اس کے ساتھ اپنی ہمّت اور طاقت سے بڑھ کر سلُوک کیا کیا وہ دے گا جو اسس کے وہمو گمان میں بھی نہیں آسکتا ۔ اسطرح حدیث میں آیا ہے کہ خدا کہے گا کہ میں بھوکا تھا ۔مجھے کھانا نہ دیا ۔میں ننگا تھا مجھے کپڑا نہ دیا۔ میں پیاسا تھا ،مگر مجھے پانی نہ دیا۔وہ کہیں گے کہ یا رب العلمین کب؟وہ فرمائے گا ۔فُلاں جو میرا حاجتمند بندہ تھا۔۔اس کو دینا ایسا ہی تھا،جیسے مجھ کو ۔اور ایسا ہی ایک شخص کو کہے گا کہ تونے روٹی دی کپڑا دیا۔وہ کہے گا کہ تُو تو رب العالمین ہے کہ کب گیا تھا کہ میں نے دیا۔تو پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں بندہ کو دیا تھا ۔ غرض نیکی وہی ہے جو قبل از وقت ہے ۔اگر بعد میں کچھ کرے تو کچھ فائدہ نہیں ۔خدا نیکی قبول نہیں کرتا جو صطرت کے جوش سے ہو ۔کشتی ڈوبتی ہے تو سب روتے ہیں،مگر وہ رونا اور چلّانا چونکہ تقاضائے فطرت کا نتیجہ ہے اس لیے اس وقت سود مند نہیں ہو سکتا اور وہ اس وقت مفید ہے جو اس سے پہلے ہو تا ہے جبکہ امن کی حالت ہو ۔یقیناََسکجھو کہ کہ خدا کوپانے کا یہی گرہے جو قبل از وقت چوکنّا اور بیدار ہو تا ہے ۔ایسا بیدار گویا اس پر بجلی گرنے والی ہے اس پر ہر گز نہیں گرتی ۔لیکن جو بجلی دیکھ چلّاتا ہے ۔اُس پر گرے گی اور ہلاک کرے گی ۔وہ بجلی سے ڈرتا ہے نہ خدا سے ۔ اسی طرح سے جب طاعون گھر میں آگئی اس وقت اگر تو بہ استغفار شروع کیا تو وہ طاعون کا خوف ہے نہ خدا کا۔اس کا بُت طاعون ہے خدا معبُود نہیںاگر خدا سے ڈرتا ہے تواللہ تعالیٰاس فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ اس کو نقصان نہ پہنچاؤ۔یہ مت سمجھوکہ طاعون گرمی میں ہٹ جاتی ۔سردی میںپھر یہ بلاآن موجود ہوتی ہے ۔بعض وقت اس کا دورہ ستّر ستّر برس تک ہو تا ہے ۔یہود پر بھی یہی بَلا پڑی تھی۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْ بِمیںاللہ تعالیٰ نے یہی تعلیم دی ہے کہ ان یہو دیوں کے راہ سے بچائیو جن پر طاعون پڑی تھی ۔پس قبل از وقت عاجزی کرو گے ،تو ہماری دُعائیں بھی تمہارے لیے نیک نتیجے پیدا کریں گی ۔لیکن اگر تم غافِل ہو گئے تو کچھ فائدہ نہ ہو گا ۔خدا کو ہر وقت یاد رکھو اور موت کو سامنے موجو د سمجھو ۔زمیندار بڑے نادان ہو تے ہیں۔اگر ایک رات بھی امن سے گزر جاوے تو بے خوف ہو جاتے ہیں ۔ دیکھو تم لوگ کچھ محنت کرکے کھیت تیار کرتے ہو تو فائدہ کی امید ہو تی ہے ۔اسی طرح پر امن کے دن محنت کے لیے ہیں۔اگر اب خدا کو یاد کرو گے تو اس کا مزہ پاؤ گے ۔اگرچہ زمین داریاور دنیا کے کاموں کے