ہے وہ عالم الغیب ہے وہ حیّ القیوم ہے۔ اس خدا کا دامن پکڑنے سے کوئی تکلیف پا سکتا ہے ؟کبھی نہیں ۔ خدا تعالیٰ اپنے حقیقی بندے کو ایسے وقتو ں میں بچا لیتا ہے کہ دنیا حیرا ن رہ جاتی ے آگ میں پڑ کر حضرت ابرا ہیم علیہ السلامکا زندہ نکلنا کیا دنیا کے لیے حیرت انگیز امر نہ تھا ۔ کیا ایک خطرنا ک طو فا ن میں حضرت نوحؑ اور آپ کے رفقاء کا سلا مت بچ رہنا کو ئی چھو ٹی سی بات تھی اس قسم کی بے شمار نظیریں مو جود ہیں اور خو د اس زمانہ میںخدا تعالیٰ نے اپنے دست قدرت کے کر شمے دکھا ئے ہیں دیکھو مجھ پر خون اور اقدام ِ قتل کا مقد مہ بنا یا گے ۔ایک بڑا بھا ری ڈاکٹر جو پادری ہے وہ اس میں مدّعی ہوا اور آریہ اورابعض مسلما ن اس کے معاون ہو ئے لیکن آخر وہی ہوا جو خدا نے پہلے سے فر مایا تھا ۔ابراء ( بے قصور ٹھہرانا ) پس یہ وقت ہے کہ تم توبہ کرو اور اپنے دلوں کو پاک صاف کر و ابھی طا عون تمہا رے گاؤ ں میں نہیں ۔یہ خدا کا فضل و کرم ہے اس لیے توبہ کاوقت ہے اور اگر مصیبت سر پر آپڑی اس وقت تو بہ کیا فائدہ دے گی ۔جمّوں، سیالکوٹ اور لدھیانہ وغیرہ اضلا ع میں دیکھو کہ کیا ہو رہا ہے ۔ ایک طو فان برپا ہے اور قیامت کا ہنگا مہ ہو رہا ہے اس قدخوفناک موتیں ہوئی ہیں کہ ایک سنگدل انسا ن بھی اس نظا رہ کو دیکھ کر ضبط نہیں کر سکتا ۔چھو ٹا بچہ پا س پڑا ہوا تڑپ رہااور بلبلارہا ہے ما ں باپ سا منے مرتے ہیں ۔کوئی خبر گیر نہیں ہے بہت عرصہ کا ذکر ہے کہ میں نے رویاء دیکھی تھی کہ ایک بڑا میدان ہے اس میں ایک بڑی نالی کھدی ہوئی ہے جس پر بھیڑیں لٹا کر قصاب ہا تھ میں چھری لئے ہوئے بیٹھے ہیں اور آسمان کی طرف منہ کیے ہوئے حکم کا انتظا ر کرتے ہیں۔میں پاس ٹہل رہا ہوں ۔اتنے میں میں نے پڑھا ۔ قل ما یعبو بکم ربی لو لا دعا و کم(الفر قا ن : ۷۸) یہ سنتے ہی انہو ں نے جھٹ چھری پھیر دی بھیڑیں تڑپتی ہیں اور وہ قصاب انہیں کہتے ہیں کہ تم ہو کیا ، گوہ کھا نے والی بھیڑیں ہی ہو وہ نظا رہ اس وقت تک میری آنکھو ں کے سامنے ہے ۔ غرض خدا بے نیاز ہے ،اُسے صا دق مومن کے سو ا اور کسی کی پرو اہ نہیں ہو تی ۔ اور بعدازوقت دعاقبول نہیںہو تی ہے۔ جب اللہ تعا لیٰ نے مہلت دی ہے اُس وقت اُسے راضی کر نا چا ہیے ،لیکن جب اپنی سیہ کاریوں اور گناہو ں سے اُسے ناراض کر لیا اور اس کا غضب اور غصہ بھڑک اُٹھا ۔ اُس وقت عذاب ِ الٰہی کو دیکھ کر تو بہ استغفا ر شرو ع کی اس سے کیا فا ئدہ ہو گا جب سزا کا فتویٰ لگ چکا ۔ یہ ایسی بار ہے کہ جیسے کوئی شہزادہ بھیس بدل کر نکلے اورکسی دولت مند کے گھر جاکر روٹی یا کپڑا پانی مانگے اور وہ باوجود مقدرت ہو نے کے اس مسخری کریں اور ٹھٹھے مار کر نکال دیں ۔ اور وہ اسی طرح سارے گھر پھرے ،لیکن ایک گھر والا چارپائی دے کر بٹھائے اور پانی شربت او خشک روٹی کی بجائے