گائوں میں اگر ایک آدی نیک ہو ، تواللہ تعالیٰ اس نیک کی رعایت اور خاطر سے اس گاؤںکو تباہی سے محفوظ کرلیتاہے ، لیکن جب تباہی آتی ہے تو سب پر پڑتی ہے ، مگر پھر بھی وہ اپنے بندوں کو کسی نہ کسی نہج سے بچالیتا ہے سنت اللہ یہی ہے کے اگر ایک بھی نیک ہو تو اس کے لیے دوسرے بھی بچائے جاتے ہیں ۔
جیسے حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ ہے کہ جب لُوط کی قوم تباہ ہونے لگی تو اُنھوںنے کہا کہاگر سَو میںسے ایک ہی نیک ہو تو کیا تباہ کردے گا ۔ کہا نہیں آخر ایک تک بھی نہیںکروں گا ۔فرمایاؔ ، لیکن جب حد ہی ہو جاتی ہے تو پھر ۔
لا یخاف عقبھا۔
خد اکی شان ہو تی ہے پلیدوں کے عذاب پر وہ پرواہ نہیںکرتا کہ اُن کی بیوی بچّوں کاکیا حال ہوگا اور صادقوں اور راستبازوں کے لیے ۔
کان ابو ھماصالحا
کی رعات کرتا ہے حضرت موسیٰ اور خضر کو حکم ہو تھا کے ان بچّوںکی دیوار بنادواس لیے اُن کا باپ نیک بخت تھا ۔ اور اس کی نیک بختی کی خدا نے ایسی قدر کی کہ پیغمبر راج مزدور ہوئے ، غرض ایسا تو رحیم کریم ہے ، لیکن اگر کوئی شرارت کرے اورزیادتی کرے تو پھر بہت بُری طرح پکڑتا ہے ۔ وہ ایسا غیّور ہے کہ اس کا غضب کو یکھ کر کلیجہ پھٹتاہے ۔ دیکھولُوط کی بستی کو کیسے تباہ کر ڈالا ۔
اس وقت بھی دنیا کی حالت ایسی ہورہی ہے کہ وہ خداتعالیٰکے غضب کو کھینچ لائی ہے تم بہت اچھّے وقت آگئے ہو اب بہتر اور مناسب یہی ہے کہ تم اپنے آپ کو بدلالو اپنے اعمال میں اگر کوئی انحراف دیکھو تو اُسے دُور کر و ۔ تم ایسے ہوجاؤکہ نہ مخلوق کا حق تم پر باقی رہے نہ خد اکا ۔ یاد رکھو جو مخلوق کا حق دباتاہے ۔ اس کی دُعاقبول نہیں ہوتی کیونکہ وہ ظالم ہے ۔ ۱؎
اپنی زندگی میں انقلاب پیدا کرو
اس سلسلہ میںداخل تمہارا وجود الگ ہو ااور تم بالکل ایک نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ ۔ جو کچھ م پہلے تھے وہ نہ رہو ۔یہ مت سمجھو کہ تم خد اتعالیٰ کی راہمیں تبدیلی کرنے سے محتاج ہوجاؤگے یا تمھارے بہت سے دشمن پیدا ہوجائیں گئے ۔نہیں ، خدا کا دامن پکڑنے والا ہر گز محتاج نہیں ہوتا اس پر کبھی بُرے دن نہیں آسکتے خداجس کا دوست اور مدد گار ہو ۔ اگر تمام دنیا اس کی دشمن ہوجاوے تو کچھ پرواہ نہیں ، مومن اگر مشکلات میں ھی پڑے تو وہ ہر گز مصیبت میںنہیں ہو تا لیکن وہ دن ا س کے لیے بہشت کے دن ہوتے ہیں خداکے فرشتے ماں کی طرح اسے گود میں لے لیتے ہیں۔
مختصر یہ کہ خدا خودان کا محافظ اور ناصر ہوتا ہے یہ خد اجو ایسا خدا ہے کہ وہ ۔ علی کلی شئیً قدیر