مرید کو چوری کرنے سے منع کر سکیں یا سودخواریا بدکار کو اس کے عیبوں سے آگاہ کر سکیں ۔دنیا کے گدی نشینوں اور مہنتوں کا اس طرح پر گذارہ نہیں ہو سکتا۔
یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے
یہ خدا ہی کے سلسلہ میں برکت ہے کہ وہ دشمنوں کے درمیان پرورش پاتا اور بڑھتا ہے۔؎ٰ
اُنہوں نے بڑے بڑے منصوبے کئے۔ خون تک کے مقدّمے بنوائے، مگر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جو بایں ہوتی ہیں، وہ ضائع نہیں ہو سکتیں۔ میں تمہیں سث سچ کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے۔ اگر انسانی ہاتھوں اور انسانی منصوبوں کا نتیجہ ہوتا تو انسانی تدابیر اور انسانی مقابلے ابتک اُس کو تیست و نبود کر چکے ہوتے۔ انسانی منصوبوں کے سامنے اس کا بڑھنا اور ترقی کرنا ہی اس کے خدا کی طرف س یہونے کا ثبوت ہے۔ پس جس قدر تم اپنی قوتِ یقین کو بڑھائو گے، اسی قدر دل روشن ہوگا۔
دعا کے آداب
قرآن شریف کو پڑھو اور خدا سے کبھی نا اُمید نہ ہو۔ مومن خدا سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ یہ کافروں کی عادت میں داخل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہمارا خدا علیٰ کل شیئی قدیر خدا ہے۔ قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو اور نمازوں کو سنوار سنوار کر پڑھو اور اس کا مطلب بھی سمجھو۔ اپنی زبان میں بھی دعائیں کر لو۔قرآن شریف کو ایک معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو، بلکہ اُس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ کر پڑھو۔ نماز کو اسی طرح پڑھو، جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے۔البتہ اپنی حاجتوں اور مطالب کو مسنون اذکار کے بعد اپنی زبان میں بیشک ادا کرو اور خدا تعالیٰ سے مانگو۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے نماز ہر گز ضائع نہیں ہوتی۔آجکل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے۔ نمازیں کیا پڑھتے ہیں ٹکریں مارتے ہیں۔نماز تو بہت جلدجلد مرغ کی طرح ٹھونگیں مر کر پڑھ لیتے ہیں اور پیچھے دعا کے لیے بیٹھے رہت یہیں۔ نماز کا اصل مغز اور ھوح تو دعا ہی ہے۔ نماز سے نکل کر دعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا عرض حال کرنے کا موقع بھی ہو، کیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کہے لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخوست پیش کرے۔ اسے کیا فائدہ۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع خضوع کے ساتھ دعائیں نہیں مانگتے۔ تم کو جو دعائیں کرنی ہوں، نماز میں کر لیا کرو۔ اور پورے آداب الدّعا کو ملحوظ رکھو۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع ہی میں دعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دعا کے آداب بھی