لیکن اب جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنے وقت پر اس نشان کو ظاہر کر دیا تو میری مخالفت کے لیے یہ خدا تعالیٰ کے اس جلیل الشان نشان کی بے حرمتی کرتے ہیں اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک پیشگوئی کی توہین کرتے ہوئے حدیثوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں!!! افسوس۔
اسی طرح پر یہود کے بڑے بڑے مولوی فقیہ اور فریسی کرتے تھے۔ جب حضرت مسیح آئے اُنہوں نے بھی اندار کیا۔ یاد رکھو حق میں ایک خوشبو ہوتی ہے او وہ خود بخود پھیل جاتی ہے اور خدا اس کی حمایت کرتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا تھا۔ اس وقت میں اکیلا تھا اور کوئی مجھے جانتا بھی نہ تھا، مگر اب پچاس ہزار سے بھی زیادہ انسان اس سلسلہ میں شامل ہیں اور اطراف عالم میں اس دعویٰ کا شور مچ گیا ہے۔ خدا تعالیٰ اگر ساتھ نہ ہوتا اور اُس کی طرف سے یہ سلسلہ نہ ہوتا، تو اس کی تائید کیونکر ہوسکتی تھی اور یہ سلسلہ قائم کیونکر رہ سکتا تھا؟
مخالفت کی وجہ
اور پھر یہ نہیں کہ اس طریق میں سب کو خوش کیا گیا تھا، نہیں بلکہ سب سے مخالفت اور سب کو ناراض کیا گیا۔ عیسائی الگ ناراض اور سب سے بڑھ کر ناراض ہیں، جبکہ اُن کو سنایا گیا یہ صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کرنے آیا ہوں اور اُن کو دعوت کی گئے کہ تمہارا یسوع مسیۃ جس کو تم نے خدا بنایا ہے اور جس کی صلیبی موت پر جو تمہارے نزدیک لعنتی موت ہے تمہاری نجات منحصر ہے۔ وہ تو ایک عاجز انسان تھا اور وہ کشمیر میں مرا پڑا ہے۔ عیسائی اگر ناراض تھے تو اور کسی قوم کے ستھ بھی صلح نہ رہی۔ آریوںؔکے ساتھ اگر مخالفت، جبکہ اُن کے بیوگ، تناسخ اور دوسرے معتقدات کی ایسی تردید کی گئی کہ جس کا جواب اُن سے کبھی نہ ہوسکے گا۔ اور آخر خدا تعالیٰ نے اپنے ایک بیّن نشان کے ساتھ اُن پر حجّت پوری کی اور اگر باہر والے باراض تھے۔ تو مسلمان ہی خوش ہوتے، مگر تم دیکھ لو کہ ان لوگوں کی جب غلطیاں نکالی گئیں۔ اُن کے مشائخ، پیر زادوں مولویوں اور دوسرے لوگوں کی بدعتوں او مشرکانہ رسومات کو ظاہر کیا گیا اور اُن کے خانہ ساز عقائد کو کھولا گیا تو یہ سب سے بڑھ کر دشمن ثابت ہوئے۔ اب ان سب لوگوں کی مخالفت کے ہوتے ہوئے اس سلسلہ کا ترقی کرنا۔ اور دن بدن بڑھنا بتائو خدا کی تائید کے بغیر ہو سکتا ہے؟ کیا انسانی منصوبوں سے یہ عظیم الشان سلسلہ چل سکتا ہے؟
انسان کی عادت میں داخل ہے کہ جب اسکی عادت اور عقیدہ کے خلاف کہا جاوے تو وہ مخالف ہو جاتا ہے اور ناراض ہو جاتا ہے۔ ایک ہندو کو جب گنگا کے خلاف ذرا سی بات بھی کہی جاوے تو وہ دشمن بن جاتا ہے۔ پھر کُل مذاہب کے خلاف کہا گیا۔ وہ کیوں ناراض نہ ہوتے اور اس پر اگر خدا کی طرف سے یہ کام نہ ہوتا تو تباہ ہو جاتا۔ اس قدر مخالفت کے ہوتے ہوئے اُس کا سر سبز ہونا ہی اس کے خدا کی طرف سے ہونے کی دلیل ہے۔
پھر عام پیروں اور مشائخ کی طرح نہیں کہ نزر و نیاز س یہی کام ہے خواہ وہ چور ی ی ہی ہو۔ اور کچھ بھی خدا تعالیٰ کی سچی شریعت کے متعلق نہیں بتاتے، بلکہ بتاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ وہ اس قدر جرأ ت نہیں کر سکتے کہ ایک چور