بتا دئیے ہیں۔ سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے؛ چنانچہ اس دعا کو اﷲ تعالیٰ نے یوں سکھایا ہے۔
الحمد للہ رب العلمین۔الرحمن الرحیم۔ - الیٰ آخرہ۔
یعنی دعا سے پہلے ضروری ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جاوے جس سے اﷲ تعالیٰ کے لیے روح میں ایک جوش اور محبت پیدا ہو، اس لیے فرمایا۔ الحمد للہ سب تعریفین اﷲ ہی کے لیے ہیں رب العلمین۔ سب کو پیدا کرنیوالا اور پالنے والا۔ الرحمٰن۔ جو بلا عمل اور بن مانگے دینے والا ہے۔ الرحیم۔ پھر عمل پر بھی بدلہ دیتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیتا ہے۔ مالک یوم الدین۔ ہر بدلہ اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ نیکی بدی سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پورا اور کامل موحد تب ہی ہوتا ہے، جب اﷲ تعالیٰ کو مالک یوم الد ین تسلیم کرتا ہے۔ دیکھو حکام کے سامنے جا کر ان کو سب کچھ تسلیم کر لینا یہ گناہ ہے اور اس سے شرک لازم آتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ اﷲ تعالیٰ نے اُن کو حاکم بنایا ہے۔اُن کی اطاعت ضروری ہے، مگر اُن کو خدا ہر گز نہ بہائو۔ انسان کا حق انسان کو اور خدا تعالیٰ کا حق خدا تعالیٰ کو دو۔ پھر یہ کہو۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ اھد نا الصراط المستقیم ہم کو سیدھی راہ دکھا۔ یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیے اور وہ نبیوں۔صدیقون۔شہیدوں اور صالحین کا گروہ ہے۔ اس دعا میں ان تمام گروہوں کے فضل اور انعام کو مانگا گیا ہے۔ ان لوگوں کی راہ سے بچا، جن پر تیرا غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔ غرض یہ مختصر طور پر سورۃ فاتحہ کا ترجمہ ہے۔ اسی طرح پر سمجھ سمجھ کر ساری نماز کا ترجمہ پڑھ لو اور پھر اسی مطلب کو سمجھ کر نماز پڑھو۔ طرح طرح کے حرف رٹ لینے سے کچھ فائدہ نہیں۔ یہ یقینا سمجھو کہ آدمی میں سچی توحید آہی نہیں سکتی، جبتک وہ نماز کو طوطے کی طرح پڑھتا ہے۔ روح پر وہ اثر نہیں پڑتا اور ٹھوکر، نہیں لگتی جو اس کو کمال کے درجہ تک پہنچاتی ہے۔ عقیدہ بھی یہی رکھو کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ثانی اور نِدّ نہیں ہے اور اپنے عمل سے بھی یہی ثابت کرکے دکھائو۔
سلسلہ احمدیہ کے برحق ہونے کا ثبوت
خدا تعالیٰ کی دو زبر دست گوہیاں ہر بات میں ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں۔ اولؔ گواہی اس کی کتاب کی ہے تو قرآن شریف ہے۔ قرآن شریف میں جو کچھ لکھا ہے، وہ سب صحیح اور سچ ہے اور ہم ایمان لاتے اور یقین کرتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس اس کو مانو۔ اور دوسریؔ گواہی اس کا کام کی ہے۔ زمین و آسمان اپنی شہادتوں سے اس کی سچائی کو ثابت کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو جو قائم کیا ہے اور مجھے جو پیدا کیا ہے تو اس میں بھی ان دونوں گواہیوں کو ساتھ رکھا ہے۔
اولؔ ۔حضرت عیساٰ علیہ السلام کے فوت ہونے کا بڑی صفائی کے ستھ قرآن شریف میں ذکر کیا