توحید لے کر آئے اور جس نہج پر قرآن نے توحید کے مراتب کو کھول کھول کر بیان کیا ہے کسی اور کتاب میں اس کا ہر گز پتہ نہیں ہے۔ پھر جب ایسے صاف چشمہ کو انہوں نے مکدّر کرنا چاہا ہے، تو بتائو۔ اسلام کی توہین میں کیا باقی رہا۔اس پر اُن کی بد قسمتی یہ ہے کہ جب اُن کو وہ اصل اسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے پیش کیا جاتا ہے اور قرآن شریف کے ستھ ثابت کر کے دکھایا جاتا ہے کہ تم غلطی پر ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ کیا اتنی بات کہہ کر یہ اپنے آپ کو بری کر سکتے ہیں؟ نہیں! بلکہ قرآن شریف کے موافق اور خدا تعالیٰ کی سنت قدیم کے مطابق اس قول سے بھی ایک حجت اُن پر پوری ہوتی ہے۔ جب کبھی کوئی خدا کا مامور اور مرسل آیا ہے تو مخالفوں نے اس کی تعلیم کو سُن کر یہی کہا ہے۔ ما سمعنا مھذا فی ابا ئنا الاولین (مومنون : ۲۵) مجددین کی ضرورت تعجب کی بات ہے کہ تجدید کا قانون یہ روز مرہ دیکھتے ہیں۔ ایک ہفتہ کے بعد کپڑے بھی میلے ہو جاتے ہیں اور اُن کے دھلانے کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن کیا پوری صدی گزر جانے کے بعد بھی مجدد کی ضرورت نہیں ہوتی؟ ہوتی ہے اور ضرور ہوتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا۔ کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد اصلاح خلق کے لیے آتا ہے، کیونکہ صدی کے اس درمیانی حصہ مین بہت سی غلطیاں اور بدعتیں دین میں شامل کر لی جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کبھی پسند نہیں فرماتا کہ اس کے پاک دین میں خرابی رہ جاوے، اس لیے وہ ان کی اصلاح کی خاطر مجدد بھیج دیتا ہے؛ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین پھر تابعین پھر تبع تابعین کے زمانے کیسے مبارک زمانے تھے۔ ان تین زمانوں کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خیرالقرون فرمایا ہے۔ بعد اس کے نیکی اور خیر میں کمی آتی رہی اور غلطیاں پیدا ہونے لگیں۔ یہنتک کہ بہت ہی خطر باک غلطیاں پیدا ہو گئیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جس کا نام رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے، جس میں جھوٹ کثرت سے پھیل گیا اور جس کی بابت آپؐ نے فرمایا۔ لیسو امنی ولست منہم۔ ظہور مہدی و مسیح موعود کی غرض اب اس زمانہ کے بعد خدا نے چاہا ہے کہ ان غلطیوں کو دور کرے اور اسلام کا حقیقی چہرہ پۃر دنیا کو دکھائے اور شرک اور مردہ انسان کی پرستش کو دور کرے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروزی طور پر ظہور ہوا۔ اور آپؐ کی عظمت کو مسیح کے مقابلہ میں ظاہر کرنے کے لیے خدا کی غیرت نے چاہا کہ احمدؐ کے غلام کو مسیح سے افضل قرار دیا۔ اسی بات کے لیس سورج چاند کو رمضان میں مقررہ تاریخوں پر پیشگوئی کے موافق کرہن لگا۔ یہ مولوی جب تک یہ واقع نہ ہوا تھا۔ مہدی کی علامتوں میں بڑے زور شور سے منبروں پر چڑھ چڑھ کر اس کو بیان کرتے تھے۔