ظلمت بڑھتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ دل بالکل سیاہ ہو جاتا ہے اور یہ ظلمت ہے جو جہنم کہلاتی ہے کیونکہ اسی سے ایک عذاب پیدا ہوتا ہے اب اس عذاب سے اگربچنے کے لئے وہ یہ سعی کرتا ہے کہ ان اسباب کو جو خدا تعالیٰ سے بعد اور دوری کا موجب ہوئے ہیں چھوڑ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ رجوع کرتا ہے اور جیسے کھڑکیوں کے کھول دینے سے روشنی واپس آکر تاریکی کو دور کر دیتی ہے اسی طرح پر یہ سعادت کا نور جو جاتا رہا تھا وہ اسی انسان کو جو رجوع کرتا ہے پھر دیا جاتا ہے اور وہ اس سے پورا مستفید ہونے لگتا ہے۔
اور توبہ کی یہی حقیقت ہے جس کی نظیر ہم قانون قدرت میں صاف مشاہدہ کرتے ہیں ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نبیوں کے زمانہ میں جو قوموں پر عذاب آتے ہیں جیسے لوطؑ کی قوم پر یا یہودیوں کو بخت نصر یا طیطس رومی کے ذریعہ تباہ کیا گیاتو ان عذابوں کا موجب محض اختلاف نہیں ہوتا بلکہ ان عذابوں اور دکھوں کا موجب وہ شرارتیں شوخیا ں اور تکلیفیں ہوتی ہیں جو وہ نبیوں سے کر تے اور انہیں پہنچاتے ہیں آخر ان کی شرارتیں ان پر ہی لوٹ کر پڑتی ہیں اور انہیں تباہ اور ہلاک کر دیتی ہیں جس طرح پر سیاست اور ملک داری کے اصولوں کی تہ میں یہ بات رکھی ہوئی ہے کہ امن عامہ میں خلل انداز ہونے والوں کو وہ چور ہوں یا ڈاکو باغی ہوں یا کسی اور جرم کے مجرم محض اس لئے سزا دی جاتی ہے تاآئندہ کے لئے امن ہو اور دوسروں کو اس سے عبرت اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ قانون رکھا ہوا ہے کہ وہ شریروں اورسرکشوں کو جو ا س کے حدود اور اوامر کی پرواہ نہیں کرتے سزا دیتا ہے تا حد سے نہ بڑھ جائیں۔جنہوں نے حد سے بڑھنا چاہا خدا نے انہیں وہیں تنبیہ کی۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سزا اور تنبیہہ اسی شخص کے لئے بھی جسے دی جاتی ہے اور دوسروں کے واسطے بھی عبرت کی نگاہ سے اسے دیکھتے ہیں بطور رحمت ہے کیونکہ اگر سزا نہ دی جائے تو امن اٹھ جاتا ہے اور انجام کار نتیجہ بہت برا ہوتا ہے قانون قدرت پر نظر کرو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فطرت انسانی میں یہ بات رکھی ہوئی اور اسی فطرتی نقش ہی بناء پر قرآن نے یہ فرمایا ہے کہ
ولکم فی القصاص حیوۃ یا اولی الالباب(البقرہ:۱۸۰)
یعنی تمہارے تمدن کے قیام کے لئے قصاص کاہونا ضروری ہے اگر افعال کے کچھ نتائج ہی نہیں ہوتے تو وہ افعال کیا ہوتے اور ان سے غرض مقصود ہوتی؟غرض ضروری اور واقعی طور پر یہ سزائیں نہیں ہیں جو یہاں دی جاتی ہیں بلکہ یہ ایک ظل ہیں اصل سزائوں اور ان کی غرض ہے عبرت۔
دوسرے عالم کے مقاصداور ہیں اور وہ بالا تر ہیں اور بالا تر ہیںوہاں تو
من یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہٗ( الزلزال:۹)
کا انعکاسی نمونہ لوگ دیکھ لیں گے اور انسان کو اپنے مخفی در مخفی گناہوں اور عزیمتوں کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ دنیا اور آخرت کی سزائوں میں ایک بڑا فرق یہی ہے کہ دنیا کی سزائیں امن قائم کرنے اور عبرت کے لئے ہیںاور آخرت کی سزائیں افعال انسانی کے آخری اور انتہائی نتائج ہیں وہان اسے ضرور سزا ملنی ٹھہری ہے کیونکہ اس