بخارات سے سیاہ ہو چکے تھے، میری مخالفت کی اور اس مخالفت کو شرارت اور ایزارسانی کی حدتک پہنچا یا۔ اس پر خدا تعالیٰ نے جو اپنے بندوں کے لیے غیرت رکھتا ہے، طاعون کو بھیجا۔ اور یہ اس وقت ہوا ہے جب ہر قسم کی حجت پوری ہو چکی۔ عقلی دلائل اُن کے سامنے پیش کیے گئے۔ نصوص قرآنیہ حدیثیہ سے اُن پر حجت پوری کی اور آخر خدا تعالیٰ کے تائیدی نشانات بھی کثرت کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ ہر قسم کے نشان اُن کو ملے، مگ انہوں نے اُنکو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اُن پر ٹھٹھا کیا۔ اس لیے آخری علاج طاعون رکھا گیا۔ یہ وہ نشان ہے جس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے آج سے پچیس برس پہلے براھین میں بھی کیا ہے اور خدا تعالیٰ نے پہلی کتابوں میں بھی مسیح موعود کے زامانہ کا یہ ایک نشان رکھا ہے۔ اس سے وہی بچیں گے جو توحید اختیار کریں گے اور عاجزی انسان کو خدا نہ بنائیں گے۔ اور خدائی صفات سے اس کو متصف نہ ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی قدر کریں گے۔ ‏Amira مسئلہ ٔ وفات مسیح کی اہمیّت سب سے پہلی بات جو یاد رکھنی چاہیے ،وُہ وفاتِ مسیح کا مسئلہ ہے ۔یہ لوگ بعض وقت دھوکہ دیتے ہیں کہ وفات مسیح کی بحث کی ضرورت ہی کچھ نہیں؛ حالانکہ اصل جڑ یہی ہے۔ اس مسئلہ سے عیسائیوں کی ساری کارروائی باطل ہوتی ہے اور حضرت مسیح کی خدائی کی ٹانگ ٹوٹتی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت دنیا میں قائم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے وفاتِ مسیح کے مسئلہ پر بر خلاف اور نبیوں کی وفات کے بہت ہی بڑا زور دیا ہے۔ اور تیس سے بھی زیادہ آیتوں میں اس مضمون کو بیان کیا؛ چنانچہ یعیسی انی متوفیک اور فلما توفیتنی وغیرہ آیتوں میں بڑی صراحت کے ساتھ یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بیوقوف کہتے ہیں کہ وفات نہیں ہوئی بلکہ خدا نے آسمان پر اُٹھا لیا۔ یہ غلطیاں ہیں جو کتاب اﷲ کے خلاف دین کی ہتک کے لیے لوگوں نے از خود پیدا کر لی ہیں۔ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی صفات عاجزا انسان کو دی جاویں۔ پھر کس شیخی پر یہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا اسلام اسی کا نام ہے کہ یہ اقرار کیا جاوے کہ کچھ مخلوق خدا کی ہے اور کچھ مسیح کی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ایسے عقائد بنا کر ان لوگوں نے اسلام کی ہتک کی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے اور خدا تعالیٰ کی مخالفت کی ہے۔ خالص توحید اسلام نے سکھائی اسلام وہ مصفّا اور خالص توحید لے کر آیا تھا، جس کا نمونہ اور نام و نشان بھی دوسرے ملّتوں اور مذہبوں میں پایا نہیں جاتا۔ یہاں تک کہ میرا ایمان ہے کہ اگر چہ پہلی کتابوں میں بھی خدا کی توحید بیان کی گئی ہے اور کل انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض اور منشاء بھی توحید ہی کی اشاعت تھی۔ لیکن جس اسلوب اور طرز پر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم