اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم مر گئے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ میرا دل کانپ جاتا ہے، جب میں ایک مسلمان مولوی کے منہ سے یہ لفظ سنتا ہوں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مر گئے۔ زندہ نبی کو مردہ رسول قرار دیا گیا۔ اس سے بڑھ کر بے حرمتی اور بے عزّتی اسلام کی کیا ہوگی، مگر یہ غلطی خود مسلمانوں کی ہے، جنھوں نے قرآن شریف کے صریح خلاف ایک نئے بات پیدا کر لی۔ قرآن شریف میں مسیح کی موت کا بڑی وضاحت سے ذکر کیا گیا ہے، لیکن اصل میں اس غلطی کا ازالہ میرے ہی لیے رکھا تھا، کیونکہ میرا نام خدا نے حکم رکھا ہے۔ اب جو اس فیصلہ کے لیے آوے وہی اس غلطی کو نکالے۔ دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پر خدا اُس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں س یاُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس قسم کی باتوں نے دنیا کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔
مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ سب جھوٹ ظاہر ہو جاوے ۔ خدا تعالیٰ نے جس کو حکم کر کے بھیجا اس سے یہ باتیں مخفی نہیں رہ سکتی ہیں۔بھلا دائی سے پیٹ چھپ سکتا ہے۔ قرآن نے صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ آخری خلیفہ مسیح موعود ہوگا اور وہ آگیا ہے۔ اب بھی اگر کوئی اس پر لکیر کا فقیر رہے گا۔ جو فیج اعوج کے زمانہ کی ہے تو وہ نہ صرف خود نقصان اٹھائے گا بلکہ اسلام کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا جاوے گا۔ اور حقیقت میں اس غلط اور ناپاک عقیدہ نے لاکھوں آدمیوں کو مرتد کر دیا ہے۔ اس اپول نے اسلام کی سخت ہتک کی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین۔ جب یہ مان لیا کہ مردوں کو زندہ کرنے والا، آسمان پر جانے والا۔ آخری انصاف کرنے والا یسوع مسیح ہی ہے تو پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معاذاﷲ کچھ بھی نہ ہوئے؛ حالانکہ اُن کو رحمتہ للعالمین کہا گیا اور وہ کافتہ الناس کے لیے رسول ہو کر آئے۔ خاتم النبیین وہی ہوئے۔ ان لوگوں کا جنھوں نے مسلمان کہلا کر ایسے۔ بیہودہ عقیدہ رکھتے ہیں، یہ بھی مذہب ہے کہ اس وقت جو پرندے موجود ہیں اُن میں کچھ مسیح کے ہیں اور کچھ خدا تعالیٰ کے ۔تعوذباﷲ من ذٰلک۔ میں نے ایک بار ایک موحد سے سوال کیا کہ اگر اس وقت دو جانور پیش کیے جاویں اور پوچھا جاوے کہ خدا کا کونسا ہے اور مسیح کا کونسا ہے۔ تو اُس نے جواب دیا کہ مل جل ہی گئے ہیں ۔؎ٰ
پھر وہ دین جو خدا تعالیٰ کی توحید کا سرچشمہ تھا اور جس کی حمایت اور آبیاری کے لیے زمین صحابہ کے پاک خون سے سرخ ہو گئے تھی۔ اسی کے ماننے کا دعویٰ کرنے والوں نے ایک عورت کے بچہ کو عیسائیوں کا تتبع کر کے خدا بنادیا اور خدا کی صفات کو اس میں قائم کر دیا۔ جب یہانتک نوبت پہنچ گئے تو خدا تعالیٰ نے اپنی غیرت اور جلال کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا اور اُس نے اس نبی ناصری کے نمونہ پر (جس کو نادان مسلمانوں نے خدائی صفات سے متصف کرنا چاہا ہے)مجھے بھیجا ہے، مگر ان لوگوں نے جو ضد اور تعصب سے خالی نہ تھے بلکہ اُن کے دل ان تاریک