سے آئے ہیں۔جس میں لکھا ہوا تھا کہ کوئی جنازہ نہیں پڑھتا۔ مرداروں کی طرح مردوں کو گڑھے کھود کر ڈال دیا جاتا ہے، مگر تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے اس بات کی طرف توجہ نہیں کی کہ خدا تعالیٰ کا یہ غضب کیوں آیا؟ میں یقینا کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو لوگ آتے ہیں ۔ جب اُن کی باتوں کو لوگ نہیں مانتے اور شرارت اور شوخی سے اُن کا انکار کر کے ایزارسانی کی حدتک پہنچ جاتے ہیں۔ تو پھر خدا تعالیٰ کا غضب کسی نا کسی رنگ میں جوش میں آتا ہے؛ چناچہ پہلے نبیوں کے وقت میں کسی قوم کو کسی عذاب سے ہلاک کیا۔ کسی کو کسی سے،مگر اس وقت جو مسیح موعود کا زمانہ ہے خدا تعالیٰ نے اس شرارت اور شوخی سے ملے ہوئے انکار کی سزا کے لیے ساعون کو مقرر کیا ہے: چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے زمانہ کا نشان طاعون قرار دیا اور انجیل میں بھی اسی کی صداقت موجود ہے۔ براہین ؔاحمدیہ میں بھی آج سے پچیس برس پیشتر خدا تعالیٰ نے طاعون کے پھیلنے کی خبر دی تھی۔چونکہ اندار حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے اور انکار کے ساتھ شرارت اور ایزار سانی بھی ہے اور قسم قسم کے طعن کیے جاتے ہیں، اس لیے خدا تعالیٰ نے طاعون ہی کو سزا کے لیے بھیجا۔ اور یہ بات کہ مامون من اﷲ کی تکذیب اور ایذارسانی پر عذاب کیوں آتا ہے ایسی صاف ہے کہ تم اس کی مثال ایسی سمجھ سکتے ہو جیسے سرکار کسی چپڑاسی کو معاملہ وصول کرنے کے لیے بھیجے؛ حالانکہ وہ چپڑاسی بانچ چھ روپیہ موہوار کا ملازم ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کو معاملہ نا دے یا شرارت کر کے اس کو دکھ کے۔ تو گورنمنٹ سارے گائوں کو سزا دینے کے لیے تیار ہو جاتی ہے خواہ اس میں کیسے ہی معزز اور دولتمند زمیندار بھی ہوں۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ کے ماموروں کی بے عزتی کی جاوے، تو خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور اس کا غضب پھڑک اُٹھتا ہے۔اس وقت وہ شریروں کو سزا دینے کے لیے اپنے بندے کی حمایت میں نشان ظاہر کرتا ہے۔ مسیح موعود کی بعثت کی غرض پھر میں یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو آتے ہیں وہ کوئی بُری بات تو کہتے ہی نہیں۔ وہ تو یہی کہتے ہیں کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور مخلوق سے نیکی کرو۔ نامزیں پڑھو اور جو غلطیانن مذہب میں پڑ گئے ہوئے ہیں، انہیں نکالتے ہیں؛ چنانچہ اس وقت جو میں آیا ہوں، تو میں بھی اُن غلطیوں کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا ہوں جوفیج اعوج کے زمانہ میں پیدا ہو گئی ہیں۔ سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو خاک میں ملا دیا گیا ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور اہم اور اعلیٰ تعلیم توحید کو مشکوک کیا گیا ہے۔ ایک طرف تو عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع زندہ ہے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہیں ہیں اور وہ اس سے حضرت عیسیٰ کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ دو ہزار برس سے زندہ چلے آتے ہیں۔ نہ زمانہ کا کوئی اثر اُن پر ہوا۔ دوسری طرف مسلمانوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ بیشک مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا ہے اور دو ہزار برس سے ابتک اسی طرح موجود ہے۔ کوئی تغیّر وتبّدل اس کی حالت اور صورت میں نہیں ہوا۔