سے دب کر ایسی تاویلیں شروع کر دیں جو خدا تعالیٰ کے پاک کلام کے منشاء کیصریح خلاف تھیں اور بعض نے سرے سے ان علوم جدیدہ کے پڑھنے والوں کے اعتراضوں پر ان کوکفر کے فتوے دینے شروع کر دیئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزی تعلیم نے جو آزادی پھیلا دی تھی۔ اس نے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے ہوئے بچون کو بالکل بیباک کر دیا اور پھر ایک اور آفت یہ آئی کہ مسلمانوں میں سستی اور غفلت تو پیدا ہو ہی چکی تھی۔ سچے عقائد کو چھوڑ کر قسم قسم کی بدعتیں اور سلسلے خدا تعالیٰ کے سچے دین اور سلسلے کے خلاف پیدا کیے گئے اور مشرکا نا تعلیمات اور وظائف قائم کر لیے تھے۔ ان ساری آفتوں کے ہوتے ہوئے جب خدا تعالیٰ نے اپنے قدیم قانون کے موافق محض اپنے فضل سے ایک بندہ بھیج دیا جو ان ساری مصیبتوں کا چارہ گر اور مداوا تھا۔ ان لوگوں نے ناحق اسے تکلیف دی، اس کی مخالفت کے لیے اٹھے۔ جب ان کی مخالفت اور شرارت حد سے بڑھ گئے اور خدا تعالیٰ کے حضور ان کی شوخیاں اور گستاخیاں اور بے جا ضد اور عدادت سے ملا ہوا اندار قابل سزا ٹھر گیا، تو اس نے اپنے وعدہ کے موافق اس بندہ کی تائید کے لیے طاعون بھیجا۔ ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ اﷲ تعالیٰ اس مرض سے محفوظ رکھے اور اپنی پناہ میں لے۔ طاعون کوئی معمولی مریض نہیں ہے اور نہ اس کے دورہ کا کوئی خاص نظام ہے بلکہ بعض اوقات یہ سالہائے دراز تک اپنا سلسلہ جاری رکھتی ہے اور اس وقت تو طاعون خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص کام کے لیے مومور کی گئی ہے۔ وہ لوگ غلطی اور گناہ کرتے ہیں جو طاعون کو برا کہتے ہیں ۔یہ خدا کا فرشتہ ہے جو اس کے بندے کی سچائی پر ایک گواہی قائم کرنے کے لیے آیا ہے۔؎ٰ طاعون کی شدت اور اس کے متعلق پیشگوئیاں پس ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ خدا اس سے محفوظ رکھے۔ بظاہر طاعون ہر ایک گائوں کا دورہ کرے گی۔ یہ نہ سمجھو کہ کوئی باقی رہ جاوے گا۔ وہی بچ سکتا ہے جو توبہ اور استغفار میں مصروف ہے۔ اس لیے اس وقت ضروری ہے کہ اپنی جان اور اپنی بیوی بثوں پر رحم کرو۔ یہ خدا تعالیٰ کے غضب کے دن ہیں۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی بدکاریاں اور شوخیاں اس حدتک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں کہ جب وہ خدا کے غضب سے ہلاک ہوتا ہے، تو اس لعنت اور غضب کا ثر اُس کی اولاد تک بھی پہنچتا ہے۔ اسی لیے قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے ولا یخاف عقبھا (الشمس : ۱۶) عقبٰھا سے اولاد اور پسماندگان مراد ہیں۔ جہاں جہاں طاعون پھیلا ہے۔ لوگ کتوں کی طرح مرتے ہیں۔ بعض مردہ چوہوں کی طرح بد بُو دار ہو جاتے ہیں۔ کوئی اُن کو اُٹھا بھی نہیں سکتا اور ان کے جنازوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر قبروں میں ڈالتے ہیں۔ بہت سے خطوط طاعون زدہ علاقوں اور گائوں