تو بے خوف اور نڈر ہو جائو۔ نہیں بلکہ خدا کا خوف ہر وقت تمہیں رہنا چاہیے۔ ہر ایک کام کرنے سے پہلے سوچ لو اور دیکھ لو کہ اس سے خدا تعالیٰ راضٰ ہو گا یاناراض۔ نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ نماز اس لیے نہیں کہ ٹکریں ماری جاویں یا مرغ کی طرح کچھ ٹھونگیں مار لیں ۔ بہت لوگ ایسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نماز پڑھنے لگتے ہیں۔یہ کچھ نہیں۔ نماز خدا تعالیٰ کی حضوری ہے اور خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے اور اس سے اپنے گناہوں کے معاف کرانے کی مرکب صورت کا نام نماز ہے۔ اس کی نماز ہر گز نہیں ہوتی جو اس غرض اور مقصد کو مد نظر رکھ کر نماز نہیں پڑھتا۔پس نماز بہت ہی اچھی طرح پڑھو۔ کھڑے ہو۔ تو ایسے طریق سے کہ تمہاری صورت صاف بتادے کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں دست بستہ کھڑے ہو اور جھکو تو ایسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جھکتا ہے اور سجدہ کرو تو اس آدمی کی طرح جس کا دل ڈرتا ہے اور نمازوں میں اپنے دین اور دنیا کے لیے دعا کرو‘‘۔ طاعون ایک غضبِ الٰہی ہے طاعون جو دنیا میں آئی ہے اور اُس نے لاکھوں انسانوں کو زیرِ زمین کر دیا ہے، جس سے لاکھوں بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو گئے ہیں بلکہ کئی گھر بالکل تباہ ہو گئے اور خاندانوں کے خاندان بے نام ونشان ہو گئے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا ایک غضب ہے جو انسانوں کی غفلت اور حد سے بڑھی ہوئی شرارت اور انکار کی وجہ سے آیا ہے۔ خدا تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ جب انسان غافل ہو جاتا ہے اور طرح طرح کی بدکاریوں اور فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتا ہے، تو اس وقت خدا کا غضب ئجوش میں آتا ہے۔ اس وقت بھی دنیا کی ایسی ہی حالت ہو گئی تھی۔ کچھ تو خود گمراہ ہی تھے اور غفلت اور سستی ان میں آگئے تھی۔ سچے مذہب کے سچے عقائد کو چھوڑ بیٹھے تھے اور تمام اعمال صالحہ کی جگہ صرف چند رسوبات نے لے لی تھی۔ اس پر پادریوں نے اور بھی مٹی پلید کی۔ اُنہوں نے مختلف ذریعوں سے اس بیہودہ مذہب کو جس میں ایک عاجز انسان کو جو مر گیا ہے خدا بنایا گیا۔ لوگوں کے سامنے عجیب عجیب رنگ دے کر پیش کیا اور اس کے خون کو گناہوں کا کفارہ قرار دے کر بیباک زندگی بسر کرنے کی ترغیب دی۔ حیلہ جو کے اس فتنہ کے ستھ ہی یہ نقص پیدا ہوا کہ انگریزی تعلیم اور انگریزی وضع نے بھی ایک قسم کی نصرانیت پھیلادی جبکہ سروں میں آزادی ہی آزادی کا خیال بھر گیا۔ ادھر یورپ کے فلسفہ اور طبیعات نے اپنی جدید تحقیقاتیں جو پیش کیں تو علماء نے اپنی کمی معرفت اور علوم حقہ سے بیخبری کے باعث اور بھی نڈصان اسلام کو پہنچایا۔ان میں سے بعض نے تو قرآن کریم کی تعلیمات کی اس فلسفہ