ایام غضب اللہ غضبت غضباشدیدا یہ طاعو ن کے متعلق ہے مگر وہی خدا کے فضل کا امید وار ہو سکتا ہے جو سلسلہ دعا ، توبہ اور استغفار کا نہ توڑے اور عمداََ گناہ نہ کرے ۔ گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلا ک کر دیتی ہے اور خدا کے غضب کو بھڑکاتی ہے گناہ سے صرف خدا تعا لیٰ کا خوف اور اس کی محبت ہٹاتی ہے طاعون بھی گناہوں سے بچانے کے لیے ہے صوفی کہتے ہیں کہ سعید کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں دیتے ۔ ‏Amira بعض کے حالات سنے ہیں کہ انہوں نے دعا کی کہ کوئی ہیبت باک نظارہ ہوتا کہ دل میں رقت اور درد پیدا ہو۔ اب اس سے بڑھ کر کیا ہیبت ناک نظارہ ہوگا کہ لاکھوں بچے یتیم کیے جاتے ہیں۔ بیوائوں سے گھر بھر جاتے ہیں۔ ہزاروں خاندان بے نام و نشان نو جاتے ہیں اور کوئی باقی نہیں رہتا۔ اﷲ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کو ایسے موقعوں پر ہمیشہ بچا لیتا ہے جبکہ بلائیں عذابِ الٰہی کی صورت میں نازل ہوں۔ پس اس وقت خدا کا غضب بڑھا ہوا ہے اور حقیقت میں یہ خدا کے غضب کے ایام ہیں، اس لیے کہ خدا کے حدود و احکام کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور اس کی باتوں پر نہسی اور ٹھٹھا کیا جاتا ہے۔ پس اس سے بچنے کے لیے یہی علاج ہے کہ دعا کے سلسلہ کو نہ توڑو۔ اور توبہ و استغفار سے کام لو۔ وہی دعا مفید ہوتی ہے جبکہ دل خدا کے آگے پگھل جاوے اور خدا کے سوا کوئی مفر بظر نا آوے۔ جو خدا کی طرف بھاگتا ہے اور اضطرار کے ساتھ امن کا جویاں ہوتا ہے وہ آخر بچ جاتا ہے۔؎ٰ ۵ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء؁ شام کو چند آدمی بیعت کیلئی آئے ہوئے تھے۔ آپ نے بعد بیعت بظاہر ان کو خطاب کر کے کل جماعت کو یوں ہدایت فرمائی:۔ استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو۔ موت سے بڑھ کر اور کوئی بیدار کرنے والی چیز نہیں ہے۔ جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے، تو اﷲ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے۔ جس وقت انسان اﷲ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ پہلے گناہ بخش دیتا ہے پھر بندے کا نیا حساب چلتا ہے۔ اگر انسان کا کوئی ذرا سا بھی گناہ کرے تو وہ ساری عمر اس کا کینہ اور دشمنی رکھتا ہے اور گو زبانی معاف کر دینے کا اقرار بھی کرے، لیکن پھر بھی جب اسے موقع ملتا ہے تو اپنے اس کینہ اور عداوت کا اس سے اظہار کرتا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ ہی ہے کہ جب بندہ سچے دل سے اس کی طرف آتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دیتا اور رجوع بہ رحمت فرماتا ہے۔ اپنا فضل اس پر نازل کرتا ہے اور اس گناہ کی سزا معاف کر دیتا ہے، اس لیے تم بھی اب ایسے ہو کر جائو کہ تم وہ ہو جائو جو پہلے نہ تھے۔ نماز سنوار کر پڑھو۔ خدا جو یہاں ہے وہاں بھی ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ جب تک تم یہاں ہو۔ تمہارے دلوں میں رقت اور خدا کا خوف ہو اور جب پھر اپنے گھروں میں جائو