غرض یہ ایک سنّت اللہ ہے کہ ظالمین کو اللہ تعالیٰ اس طر یق پر سمجھاتا ہے کیوں ۔ یہ فرقہ زیادہ بھی ہو تا ہے اور غبی بھی ۔اس وقت بھی یہ فر قہ زیا دہ ہے جو نشا نات خدا ے ظاہر کئے ان پر بھی جرح کر تے ہیں۔کسو ف و خسو ف کی حدیثکو مجرو ح قرار دیدیا ۔ لیکھرا م ؔ کی پیش گو ئی پر اعترا ض کر دیا ۔ہر نشا ن جو ظا ہر ہو تا ہے اعترض کر دیتے ہیں ، مگر خدا تو سب کا مر شد ہے اس نے تیسری صو رت اور آخری حجت اختیار کی ہے جو طا عو ن ہے ۔
طاعو ن کا علاج۔ تو بہ ۔ استغفا ر اور تہجّد
طاعون کا علا ج توبہ استغفا رہی ہے ۔یہ کوئی معمولی بلا نہیں بلکہ ارادہ الٰہی سے نازل ہو ئی ہے ۔یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہماری جماعت میں کسی کو نہ ہو ۔صحابہ میں سے بھی بعض کو طاعو ن ہو گئی تھی لیکن ہا ں ہم یہ کہتے ہیں کہ خد ا تعالیٰ کے حضور تضّرع اور زاری کرتا ہے اور اس کے حدود احکا م کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے جلا ل سے ہیت زدہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا ہے وہ خدا کے فضل سے ضرور حصّہ لے گا اس لیے ہما ری جماعت کوچا ہیے کہ تہجّد کی نماز کو لازم کر لیں۔جو زیا دہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے ، کیو نکہ اس کو دُعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا اس وقت کی دعاؤں میں ایک خا ص تا ثیر ہو تی ہے ، کیو نکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں ۔جب تک ایک خا ص سو ز اور درد دل میں نہ ہو ۔ اس وقت تک ایک شخص خوابِ راحت سے بیدا ر کب ہو سکتا ؟ پس اس وقت کا اٹُھناہی ایک درد دل پیدا کر دیتا ہے جس سے د عا میں رقت اور اضطرا ب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبو لیت دعا کاموجب ہو جاتے ہین ، لیکن اگر اٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیو نکہ نیند سے بڑھ کر جو بیدار کر رہا ہے پھر ایک اور با ت ضرو ری ہے جو ہما ری جماعت کو اختیار کرنی چاہیے اثر وہ یہ ہے کہ زبان کو پا ک کر نے سے گویا خدا تعا لیٰ وجود کی ڈیو ڑھی میں آجا تا ہے جب خدا تعالیٰ ڈیو ڑھی میں آگیا تو پھر اندرآنا کیا تعجب ہے ؟
پھر یا د رکھو کہ اللہ اور حقو ق عبا د میں دانستہ ہر گز غفلت نہ کی جاوے ۔جو ان اموار کو مّد نظر رکھ کر دعاؤں سے کام لے گا ۔یا یوں کہو کہ جسے دعا کی تو فیق دی جاوے گی ۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعا لیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اور وہ بچ جاوے گا ۔ظاہری تدا بیر صفا ئی وغیرہ کی منع نہیں ہیں ۔ بلکہ بر توکل زانوئے اشتربہ بند ۔ پر عمل کر نا چا ہیے جیسا کہ ایا ک نعبد و وایا ک نستعین
سے معلو م ہو تا ہے ،مگر یاد رکھو کہ اصل صفائی وہی ہے جو فر مایا ہے ۔
قد افللح من زکھا (الشمس:۱۰)
ہر شخص اپنا فر ض سمجھ لے کہ و ہ اپنی حالت میں تبدیلی کرے تمہیںیا د ہو گا کہ مجھے الہا م ہو ا تھا۔