میں فنا کہ اپنی جانوں تک کے دے دینے میں دریغ نہ کیا ۔آپ ؐ کی ذاتی قوت ِ قدسی کا ثبوت ہے جو مقابلہ کرنے سے مسیح میں کچھ بھی نظر نہیں آتی۔ قرآن کریم اور بائیبل پھر اَسرار کی طرف نگاہ کرو ۔جس قدر اسرار اور رموز قرآن شریف میں ہیں توراتؔ اور انجیلؔ میں وہ کہا ں ۔ پھر قر آ ن شریف تمام امور کو صرف دعویٰ ہی کے رنگ میں بیان نہیں کر تا جیسے تورات ؔیا انجیل ؔجو دعویٰ ہی دعویٰ کر تی ہیں بلکہ قرآن شر یف استدلالی رنگ رکھتا ہے کو ئی با ت وہ بیا ن نہیں کرتا جس کے سا تھ اس نے ایک قوی اوا مستحکم دلیل نہ دی ہو ۔ جیسی قرآن شریف کی فصا حت وبلا غت اپنے اندر جذب رکھتی ہے ۔جس طرح پر اس کی تعلیم میں معقولیت اور کشش ہے ویسے ہی اس کے دلائل مؤثر ہیں۔غرض میرا مطلب ان ساری باتوں سے یہ ہے کہ سب سے بڑھ کرکامل اور مؤثر نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسّلم کاہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی وا رث جماعت اسی طرح پر اب بھی وہی خدا ہے جس نے رسو ل اللہ صلی علیہ وسلم پر احسا ن اور انعا م کیے اور اسی طرح پر اب بھی اس کے فضل اور بر کا ت کے انعام ہو رہے ہیں ۔ پس یاد رکھو کہ جو فریق اس حق کی مخا لفت کرتا ہے اور اسے مفتری کہتا ہے وہ جس قدر مخا لفت چاہیں کریں ۔ مخالف الہا م سنا ئیں ان کو آخر معلو م ہو جائے گا کہ غالب وہی ہوتا ہے جس کو خدا نے اپنا نور اور فضل دے کر بھیجا ہے اور خدا تعا لیٰ اپنی قدیم سنّت اور عادت کے موافق اس قو م پر اپنا فضل کرے گا جس کو اُس نے منتخب کیا ہے ۔وہی دنیا پر پھیلے گی اور وہی قرآن شریف ،اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی وارث ہو گی۔ مومینین کے تین طبقے دنیا میں ہمیشہ انسانوں کے تین طبقے ہو تے ہیں سابق بلخیرات ، مقتصداور ظالم ،سابقین کو نشانات اور معجزات کی ضرورت نہیں ہوتی ۔وہ تو قراِئن اور حا لا ت موجود ہ سے پہچا ن لیتے ہیں ۔ مقتصدین کوکچھ حصّہ روشن دما غی کا ملا ہوا ہوتا ہے اور کچھ تاریکی کا ، اس لیے وہ دلائل اور معجزات کے محتا ج ہوتے ہیں مگر تیسرا طبقہ جو ظا لمین کا ہوتا ہے وہ چونکہ بہت ہی غبی اور بلید ہو تے ہیں ۔ بجُز مار کھا نے وہ نہیں مانتے ۔یہ ایک قسم کا جبر ہو تا ہے جو ہر مذہب حق میں پایا جاتا ہے، کیو نکہ ظالمین بجز اس کے سمجھ نہیں سکتے ۔حضرت مسیح کے لیے طیطاؤس رُومی کا اتفاق ہو گیا ۔ موسیٰ کی قو م جو پہلے ہی سے مزدوریوں اور فر عو ن کی سختیوںنالاں تھی اس نے حضرت موسیٰ کی دعوت کو قبو ل کر لینا اپنی نجات کا مو جب سمجھا اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کے لیے وقتاََ فوقتاََ اُن پر عذاب بھیجتا رہا ۔کبھی طاعو ن کبھی زلزلے مختلف طریق پر انہیں منوا یااور اسی طر ح ہو تا رہا ہے ۔