یہ قائدہ کی بات ہے کہ بادشاہ کے دل کی بات تو بادشاہ ہی جانتا ہے مگر جس پر وہ اسرار ظاہر کرتا ہے یا اپنی رضامندی کے آثار جس پر دکھاتا ہے ضروری ہے کہ ہم اس کو مقرب کہیں ۔اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کو جب ہم دیکھتے ہیں تو آپ کے قرب کا مقاموہ نظر آتا ہے جو کسی دوسرے کو کبھی نصیب نہیں ہوا۔وہ عطایا اور نعماء جو آپؐ کو دیے گئے ہیں سب سے بڑھ کر ہیں اور جو اسرار آپؐ پر ظاہر ہوئے اور کوئی اس حد تک پہنچا ہی نہیں ۔قرآن شریف ہی کو دیکھ لو۔ کہ کس قدرعظیم الشا ن اپیشگوئیاں اس میں موجود ہیںحضرت مسیح کا مجھے بارہا خیال آتا ہے کہ یہ نادان کس شیخی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کا مقابلہ کرنے بیٹھتے ہیں ۔ حضرت مسیح کا دعویٰ ہی تو بجائے خود محدود ہے ۔ وہ صاف کہتے ہے کہ میںبنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لیے آیا ہوں ۔
ضربت علیہم الذلۃ (آل عمران : ۱۱۳)
کی مصداق آپ کی دعوت کو مخاطب قوم تھی ۔ یہ دعویٰ ایسا ہی ہے جیسے کوئی نمبر داری یا پتی دای کا دعویٰ کرے ۔ اب اُن کی ہمت استقلا ل اور توجہ اسی دعویٰ کی نسبت ہونی چاہئیے ۔ دوسری طرف ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔
قل یا ایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ ( ا لا عراف ۱۵۹)
اب اس ہمت اور بلندی نظری اور توجہ کا مقابلہ کرو کیا یہی خدائی کی شان ہے یہودیوں کے چار گھروں کے سوا اور کسی کی اصلاح کے لیے بھی نہیں آئے ۔
خدا کے حسبِ حال توہونا چاہئیے تھا کہ آپ کی دعوت کا میدان بڑا وسیع ہوتا۔خیربنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوںکے لیے ہی دعوت سہی ۔ مگر اب یہ بھی تو دیکھنا ہے کہ اس میں کا میابی کیا ہوئی ۔ غور کیا جاوے اور انجیل واقعات پر نگاہ کی جاوے تویہ راز بھی کھل جاتا ہے کہآپ کو ہر میدان میں ذلیل ہوناپڑادوشمنوں پر کامیابی نہ ملی۔ انہوں نے صلیب پر چڑھادیا اور قصّہ پاک ہوا۔
اس خدا کا مقابلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا ہے آپ ہر میدان میں مظفر ومنصور ہوئے ۔ آپ کے دوشمن آپؐ پر کبھی قابوُ اور غلبہ نہ پاسکے اور آپؐ کے سامنے ہی ہلاک ہوئے ۔ آپؐ کو بھیجا ایسے وقت میں گیا جبکہ زمانہ آپ ؐ کی ضرورت کو خودثابت کرتا تھا ۔اور اُٹھائے ایسے وقت گئے جبکہ کامل اصلاح ہو چکی تھی اور آپؐ اپنے فرض منصبی کو پوری کامیابی کے ساتھ ادا کر چکے اور
الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ :۴)
کی آواز آپؐ نے سن لی ۔
پھر مسیح کی طرف دیکھو آپ صلیب پر چڑھے ہوئے ہیں اور ایلی ایلی ما سبقتنی کے فریاد کرتے ہیں ۔یہودااسکریوطی تیس روپیہ پر اپنے اُستاد کو پکڑوا چکا ہے اور پطرس صاحب لعنت بھیجرہے ہیںب ۔مسیح کے لیے وہ نظارہ کیسا مایوسی بخش ہے۔ دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپؐ کے جاں نثار رفیق کس طرح پر اپنی جانیں آپؐ کے قدموں پر قربان کر رہے ہیں۔ایسے وفادار اور فرماںبردار اصحاب اور رفیق کس کو ملے اور یہ وفاداری اور اطاعت