معزّز ثابت ہوئے ہیں لیمن بالمقابل اگر مسیح کی حالت کو دیکھیں کہ معلوم ہوتا ہے ۔ کہ اُنہیں کیسی ذلّت پر ذلُت نصیب ہوئی ہے بسااوقات ایک عیسائی شرمند ہ ہوجاتا ہے م، جب وہ اپنے اس خداکی حالت پر غور کرتا ہوگا جو اُنھوںنے فرضی اور خیا لی طور پر بنایا ہواہے ۔ مجھے ہمیشہ تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ عیسائی اس تعلیم کو جو انجیل میں بیان ہوئی ہے کہ عیسائی اس تعلیم کو جو انجیل میں بیان ہوئی ہے اوراس خداکو جس کہ واقعات کس قدر انجیل سے ملتے ہیں ۔ رکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اسے ترجیح کیونکردیتے ہیں مثلاؔیہی تعلیم ہے ایک گا ل پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دو اب اس کے تمام پہلوؤ ں پر غور کر و صاف نظر آجائے گا یہ کیسی بودی اور نکمی تعلیم ہے ۔ بعض ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ اُن سے بچّے خوش ہوجاتے ہیں بعض سے متوسط درجے کے لوگ او ربعض سے اعلیٰ درجے کے لوگ ۔
انجیل کی تعلیم صرف بچّوں کا کھلونا ہے کہ جس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے جو انسان کو اس قدر قویٰ عطا فرماتے ہیں ۔ ان سب کا موضوع او ر مقصود یہی ہے کہ وہ طمانچہ کھایاکرے ؟ انسان انسان تب ہی بنتا ہے کہ وہ سارے قویٰ کو استعمال کرے ، مگر انجیل کہتی ہے کہ سارے قویٰ کو بیکار چھوڑ دواور ایک ہی قوت پر زور دیتے جائو بالمقابل قرآن شریف تمام قوتوں کامربّی ہے او ربرمحل قوت کے استعمال کی تعلیم دیتا ہے جیسا کے مسیح کی اس تعلیم کی بجائے قرآن شریف فرماتا ہے ۔
جزاواسیئۃ سیئۃ مثلھافمن عفی واصلح (الشوری: ۴۱)
یعنی بدی کی سزا تو اس قدر بدی ہے ، مگر عفو بھی کرو تو ایسا عفو کہ اس کے نتیجہ میں اصلاح ہو ، وہ عفو بہ محل نہ ہو ، مثلاً ایک فرما بردار خادم ہے اور کبھی کوئی خیانت اور غفلت اپنے فرض ادا کرنے میں نہیں کرتا ۔ مگر ایک دن اتفاقاً اس کے ہاتھ سے گرم چائے کی پیالی گر جاوے اور نہ صرف پیالی ہی ٹوٹ جاوے بلکہ کس قدر گرم چائے سر پر بھی پڑجاوے تو اس وقت یہ ضرو ری نہیں کہ آقا اس کو سزا دے بلکہ اس کی حسب حا ل سزا یہی ہے کہ اس کو معا ف کر دیا جا وے ۔ ایسے وقت پر مو قع شنا س آقا تو خود شرمندہ ہو جا تا ہے کہ اس بیچا رے نو کر کو شر مندہ جوہو نا پڑے گا ، لیکن کوئی شر یر نو کر اس قسم کا ہے کہ وہ ہر رو ز نقصا ن کر تا ہے اگر اس کو عفوکر دیا جائے تو وہ اور بھی بگڑے گا ۔ اس کو تنبیہ ضروری ہے ۔ غرض اسلا م انسانی قویٰ کو اپنے اپنے مو قع اور محل پر استعما ل کر نے کی تعلیم دیتا ہے اور انجیل اندھا دھند ایک ہی قوت پر زور دیتی چلی جا تی ہے گر حفظ مرا تب نہ کُنی زندیقی۔
غر ض حفظ مرا تب کا مقا م قر آن شریف نے رکھا ہے کہ عدل کی طر ف لے جا تا ہے ۔تمام احکا م میں اس کی یہی صورت ہے ۔ مال کی طرف دیکھو ۔نہ ممسک بنا تا ہے نہ مسرف ۔یہی وجہ ہے کہ اس امّت کا نا م ہی امَّتہ وَّسطاََرکھ دیا گیا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح علیہ السّلام
پھر دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقرب کو دیکھنا چاہیے۔