اپنے اﷲ کی آواز کو سنتا ہے۔ اور وہ آواز حقیقت میں اسی کی ہوتی ہے، کیونکہ اس وقت یہ تمام نجاستوں سے پاک ہو گیا ہوتا ہے۔
غرض نری آوازیں اور چندرسمی کتابوں کے پڑھ لینے سے فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ فیصلہ کی اصل اور سچی راہ وہی ہے جس کو تائیداتِ الٰہیہ کہتے ہیں۔ اُن سے ہی فیصلہ ہوتا ہے اور خدا ہی کا حربہ فیصلہ کرتا ہے۔ جو شخص خدا تعالیٰ کے حضور ایسے مقام پر کھڑا ہے جو نجاست سے بالکل الگ ہے۔ وہ وہی پاک آوازیں سنتا ہے جو حضرت موسیٰ۔حضرت عیسیٰ۔حضرت نوح۔حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام نے سنیں اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو سنا تھا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان آوازوں کی صداقت اور عملی ظہور کے لیے انسانی ہاتھوں کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ خود خدا تعالیٰ ان کی چمکار دکھاتا ہے؛ اگر چہ یہ بہت ہی باریک باتیں ہیں جو معرفت کے اسرار میں داخل ہیں؛ تا ہم خوسبو اور بد بو اپنے مختلف نظاروں سے شناخت کی جاسکتی ہے۔ اچھے درخت کو کئی طرح پہچان لیتے ہیں۔پتوں سے بھی شناخت کر لیتے ہیں۔ میں نے ایک بار الائچی کا درخت انبالہ میں دیکھا اور ایک پتا اس کا لیکر سونگھا، تو اس میں الائچی کی خوشبو موجود تھی؛اگر چہ ابھی اس کے تین درجے باقی تھے، مگر خوشبو موجود تھی۔ دانشمند انسان بہت سے قرائن سے امر واقعی کو معلوم کر لیت اہے۔ خباثت بھی ہزاروں پردوں میں چھپی رہتی ہے اور تقویٰ بھی ہزاروں پردوں میں مخفی رہتا ہے، مگر اُن کے آثا ر اور قرائن سے بخوبی پتہ لگ سکتا ہے۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ جسے کوئی آدمی عین بدکاری کی حالت میں پکڑا جاوے تو اسے بہت ہی شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ ایسے ہی ایک متقی جب اپنے تقویٰ کے سیر و عبادت میں مصروف ہو اور کوئی اجنبی اس پر گزرے توا س کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ شرمندگی کے موجبات تو ایک ہی ہیں ۔بددار اپنی بدکاری کو امر مستور رکھنا چاہتا ہے اور متقی اپنے تقویٰ کو۔غرض تقویٰ کے امور بہت پوشیدہ ہوتے ہیں بلکہ اصل تو یہ ہے کہ اس سر کی ملائکہ کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ پھر دوسرے کو کیسے مل سکتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تعلق تدلیٰ کا تھا اس کی کیفیت کو اﷲ تعالیٰ جس قدر سمجھتا تھا اس کو کسی دوسرے نے ہر گز نہیں سمجھا۔ نہ حضرت ابو بکرنے اُسے سمجھا نہ حضرت علی نے اور نہ کسی اور نے۔ آپ کا انقطاع تام اور اﷲ تعالیٰ پر توکل کرنا۔ اور مخلوق کو مرے ہوئے کیڑے سے ہیچ سمجھنا ایک ایساامر تھا جو دوسروں کو بظر نہ آسکتا تھا، مگر خدا تعالیٰ کی تائیدوں کو دیکھ کر لوگ یہ نتیجہ ضرور نکالتے تھے کہ جیسا خدا تعالیٰ سے سچا اور قوی تعلق اُس نے پیدا کیا ہوا ہے ۔خدا تعالیٰ نے بھی اس سے کوئی فرق نہیں کیاہے۔
قرآن کریم اور انجیل کی تعلیمات کا موازنہ
کیسی عظیم الشان بات ہے آپ کا کوئی ذلّت کا کبی نصیب نہیں ہو ا، بلک ہر میدان میں آپ ہر طرح