توجہ کرنے میں ضائع کریں بہتر ہے کہ وہی وقت استغفار اور دعائوں کے لیے دیں۔
خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے
ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وہ ا سامر کو مد نظر رکھیں جو میں بیان کرتا ہوں ۔مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے، تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتے ناطے ہوتے ہیں۔بعض ان میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔ بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے ۔ لیکن جناب الٰہی کو ان امور کی پرواہ نہیں۔ اُس نے تو صاف طور پر فرمادیا کہ
ان اکرمکم عند اﷲاتقکم۔(الحجرات : ۱۴)
یعنی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزز و مکرم ہے جو متقی ہے۔ اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا۔ یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہوسکتے کہ متقی بہی وہیں رہے اور شریر اور باپاک بھی وہیں۔ ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہو اور خبیث ہلاک کیا جاوے اور چوہکہ اس کا علم خدا کو ے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے۔ پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بدبخت ہے وہ جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔
الٰہی اور شیطانی الہام میں فرق
اگر کوئی یہ خیال کرے کہ ان میں علماء بھی ہیں۔ ملہم بھی ہیں تو یہ ایک خیالی بات ہے اور اس سے کوئی ھائدہ اس مقصد کو نہیں پہنچ سکتا جو انسانی ہستی کا ہونا چاہیے۔یادرکھو وہ امر جس پر خدا راضی ہوتا ہے جبتک وہ نہ ہو نہ علم صحیح ہوتا ہے نہ الہام مفید۔ جو شخص پاخانہ کا پاس کھڑا ہے۔ پہلے تو اُسے بدبو ہی آئے گی۔پھر اگر عطر اس کے پاس کیا جاوے تو وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائیگا۔ جبتک خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہ ہو کچھ نہیں ملتا۔ اور خدا سے قریب کرنے والی بات صرف تقویٰ ہے۔ سچی آواز سننے کے لیے متقی بننا چاہیے۔ میں نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو ہر آواز کو جو انہیں ئجاوے الہام ہی سمجھتے ہیں ؛ حالنکہ اضغاث احلام بھی ہوتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو آوازیں انہیں سنائی دیتی ہیں،وہ بناوٹی ہیں۔ نہیں اُن کو آوازیں آتی ہوں گی، مگر ہم ہر آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز قرار نہیں دے سکتے، جبتک اس کے ساتھ وہ انوار اور برکات نہ ہوں جو اﷲ تعالیٰ کے پاک کلام کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اسلیے ہم کہتے ہیں کہ ان الہام کے دعویٰ کرنے والوں کو اپنے الہاموں کو اس کسوٹی پر پَرکھنا چاہیے اور اس بات کو بھی اُنہیں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بعض آوازیں بری شیطانی ہوتی ہیں۔ اس لیے ان آوازوں پر ہی فریفتہ ہو جانادانشمند انسان کا کام نہیں، بلکہ جبتک اندرونی نجاست اور گند دور نہ ہو اور تقویٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل نہ ہو اور اس درجہ اور مقام پر انسان نہ پہنچ جاوے۔ جو دنیا ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی حقیر اور ذلیل بظر آوے اور اﷲ تعالیٰ ہی ہر قول و فعل میں مقصود ہو اس مقام پر قدم نہیں پڑ سکتا جہاں پہنچ کر انسان