جائے ، مگر النّادر کا لمعدوم کے ضمن میں ہے؛ تا ہم اﷲ تعالیٰ کے فضل او ر وعدہ کے موافق یقین ہے کہ وہ ہمیں تشویش اور سخت اضطراب سے ضرور محفوظ رکھے گا۔؎ٰ
۲۳ ؍ مارچ ۱۹۰۲ء
مامور من اﷲ کے مکذبین سے خدا تعالیٰ کا معاملہ
مامور من اﷲ کی صحبت میں رہنے والے لوگ بہت کچھ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور ایک حد تک علم صحیح اس تعلق کے متعلق جو مامور من اﷲ اور خدا تعالیٰ میں ہوت اہے حاصل کرتے ہیں، مگر وہ کامل علم جو اس مامور کو دیا جاتا ہے کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا۔ اور خدا تعالیٰ کا علم تو پھر اور ہی رنگ رکھتا ہے۔ جب مامور کی تکذشیب اور انکار حدتک پہنچ جاتا ہے تو پھر ٹھیک اسی طرح جیسے زمیندار جب فصل پَک جاتی ہے تو اس کے کاٹنے کے واسطے درانتی کو درست کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ بھی مکذبوں کے لیے تیاری کرتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ وقت آگیا ہے۔ خدا تعالیٰ ہر پہلو سے حجت پوری کر چکا ہے۔ اس لیے اب ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ خاموشی سے آسمانی ہتھیار اور حربے کو دیکھے۔دنیا میں ہم یہ قانون دیکھتے ہیں کہ جب ایک حاکم کو معلوم ہو جاوے کہ فلاں مظلوم ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ جس کا علم سب سے زیادہ صحیح اور یقینی ہے جو ہر حال کا بینا ہے، کیوں اس مظلوم صادق کی مدد نہ کرے گا۔ جو محض اس لیے ستایا گیا یہ کہ اس نے اﷲ تعالیٰ سے الہام پاکر یہ کہا کہ میں خدا کی طرف سے اصلاح خلق کے لیے بھیجا گیا ہوں ۔اﷲ تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ وہ اُن کی مدد کرتا ہے، لیکن ہاں یہ سنت اﷲ ہے کہ وہ صبر سے کام لیتا ہے۔ یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کو اس تکذیب اور انکار کی خبر نہیں کفر ہے۔وہ تو ابتدا سے جانتا ہے کہ کیا کِیا جاتا ہے۔
اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے دو فریق ہو گئے ہیں۔ جس طرح ہماری جماعت شرح صدر سے اپنے آپ کو حق پر جانتی ہے۔ اسی طرح مخالف اپنے غلو میں ہر قسم کی با حیائی اور جھوٹ کو جائز سمجھتے ہیں۔شیطان نے اُن کے دلوں میں جما دیا ہے کہ ہماری نسبت ہر قسم کا افترا اور بہتان اُن کے لیے جائز ہے اور نہ صرف جائز بلکہ ثواب کا کام ہے۔ اس لیے اب ضروری ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو ان کے مقبلے میں بالکل چھوڑدیں اور خدا تعالیٰ کے فیصلہ پر نگاہ کریں۔ جس قدر وقت اُن کی بیہودگیوں اور گالیوں کی طرف