سے اُٹھایا جاتا ہے۔ جیسے مثلاً روٹی پکانا۔ وہ گو آگ سے پکائی جاتی ہے، لیکن جبتک اس کے مناسب حال انتظام اور تدبیر نہ کی جاوے وہ روٹی تیار نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح پر شریعت حقہ سے کام لینا بھی ایک حکمت عملی کو چاہتا ہے۔ پس مسلمانوں نے اس وقت باوجودیکہ اُن کے پاس آفتاب اور اس کی روشنی موجود تھی اور ہے لیکن کام نہیں لیا اور مفید صورت میں اس کو استعمال نہیں کیا اور خدا کے جلال اور عظمت سے حصہ نہیں لیا۔ اور تیسری وہ قوم ہے جس نے اس سے فریاد کی کہ ہم کو یاجوج ماجوج سے بچا۔ یہ ہماری قوم ہے جو مسیح موعود کے پاس آئی اور اس نے اس سے استفادہ کرنا چاہا۔ہے۔ غرض آج اِن قصوں کا علمی رنگ ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ قصہ پہلے بھی کسی رنگ میں گزرا ہے، لیکن یہ سچی بات ہے کہ اس قصہ یں وقعہ آئندہ کا بیان بھی بطور پیشگوئی تھا جو آج اس زمانہ میں پورا ہو گیا۔ اَلھُدیٰ اور اَلحَق سے مراد ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھر ہ علی الدین کلہ (الصف : ۱۰) پر سوچتے سوچتے مجھے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس میں دو لفظ ھدی اور حق کے رکھے ہیں۔ ھدیٰ تو یہ ہے کہ اندر روشنی پیدا کرے۔ معما نہ رہے۔ یہ گویا ندرونی اصلاح کی طرف اشارہ ہے، جو مہدی کا کام ہے اور حق کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خارجی طور پر باطل کو شکست دیوے؛ چنانچہ دوسری جگہ آیا ہے۔ جاء الحق وز ھق الباطل۔ اور خود اس آیت میں بھی فرمایا ہے۔ لیظھرہ علی الدین کلہ۔ یعنی اس رسول کی آمد کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ حق کو غلبہ دے گا۔ یہ غلبہ تلوار او ر تفنگ سے نہیں ہوگا، بلکہ وجوہ ِ عقیلہ سے ہوگا۔ یاد رکھو کہ پاک صاف عقل کا خاصہ ہے کہ وہ قصوں پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ اسرار کو کھینچ لاتی ہے۔ اسی واسطے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن کو حکمت دی گئے۔ اُن کو خیر کثیر دی گئی ہے۔ اِنّہٗ اٰوَی القَریَۃَ کے معنے آجکل ہمارے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃوالسلام کی توجہ طاعون کی طرف زیادہ ہے اور چونکہ یہ لوگ عارف تر ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ کی غنائِ ذاتی سے خائف تر بھی ہوتے ہیں۔ عموماً سیر اور بعد شام طاعون پر کچھ نہ کچھ تقریر ہو جاتی ہے انہ اوی القریۃ۔کا جو الہام ایک عرصہ سے آنحضرتؐ کو ہو چکا ہے۔اس کے متعلق فرمایا کہ میں اس کے معنی یقیناً یہی سمجھتا ہوں کہ وہ افرالتفری اور قیامت خیز نظارہ جو طاعونکی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے اس سے اﷲ تعالیٰ قادیان کو ضرور محفوظ رکھے گا؛ اگر چہ یہ امر ممکن ہی ہو کہ کوئی کیس خدا نخواستہ یہاں ہو