۱۲ ؍ فروری ۱۹۰۲ء؁ معراج کے اسرار معراج میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام کو مختلف آسمانوں پر دیکھا ہے۔ حقیقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے نبیوں کا سلسلہ زمانی طور پر بتایا ہے۔ سب سے اوپر حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو ابُوالانبیاء تھے۔ دکھا یا ہے اور دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو؛ چونکہ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ کا زمانہ مشترک تھا، اس لیے ان کو اکٹھے بٹھایا۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے درجے پر تھے، اس لیے دوسرے آسمان پر ان کو دکھایا اور آدم کو پہلے آسمان پر دکھایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آدم تھے۔ اس لیا آپؐ کو پہلے آسمان پر دکھایا گیا۔ مذہب ایک سائنس ہے اس وقت خدا تعالیٰ نے مذہبی امور کو قصے اور کتھا کے رنگ میں نہیں رکھا ہے، بلکہ مذہب کو ایک سائنس (علم) بنادیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ زمانہ کشف حقائق کا زمانہ ہے۔ جبکہ ہر بات کو علمی رنگ میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ میں اس لیے ہی بھیجا گیا ہوں کہ ہر اعتقاد کو اور قرآن کریم کے قصص کو علمی رنگ میں ظاہر کروں۔ ذُوالقرنین اور مسیح موعود یہ زمانہ چونکہ کشف حقائق کا زمانہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف کے حقائق اور معارف مجھ پر کھول رہا ہے۔ ذوالقرنین کے قصے کی طرف جو میری توجہ ہوئی تو مجے یہ سمجھایا گیا ہے کہ ذوالقرنین کے پیرایہ میں مسیح موعود ہی کا ذکر ہے اور اﷲ تعالیٰ نے اس کا نام ذوالقرنین اس لیے رکھا ہے کہ قرن چونکہ صدی کو کہتے ہیں اور مسیح موعود دو قرنوں کو پائے گا، اس لیے ذوالقرنین کہلائے گا۔ چونکہ میں نے تیرھویں اور چودھویں صدی دونوں پائی ہیں اور اسی طرح پر دوسری صدیاں ہندوئوں اور عیسائیوں کی بھی پائی ہیں۔ اس لحاظ سے تو ذوالقرنین ہے۔ اور پھر اسی قصہ میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ذوالقرنین نے تین قومیں پائیں۔ اول وہ جو غروبِ آفتاب کے پاس ہے اور کیچڑ میں ہے۔ اس سے مراد عیسائی قوم ہے جس کا آفتاب ڈوب گیا ہے۔ یعنی شریعتِ حقہ اُن کے پاس نہیں رہی۔ روحانیت مر گئے اور ایمان کی گرمی جاتی رہی۔ یہ ایک کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دوسری قوم وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے اور جھلسنے والی دھوپ ہے۔ یہ مسلمانوں کی موجودہ حالت ہے۔ آفتاب یعنی شریعت حقٰہ اُن کے پاس موجود ہے، مگر یہ لوگ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے، کیونکہ فائدہ تو حکمت عملی