لگاتے ہو کہ کیوں انہوں نے احادیث کو خود جمع نہیں کرایا، کیونکہ آپؐ نے کوئی حکم احادیث کے جمع کرنے کو نہیں فرمایا؛ حالانکہ قرآن شریف کو آپؐ خود لکھواتے اور سناتے تھے۔ بعض صحابہ نے احادیث کو اپنے طور پر جمع کیا، لیکن آخر انہوں نے جلا دیا۔ جب سبب دریا فت کیا تو یہی بتایا کہ آخر راویوں سے سنی ہیں ممکن ہے اس میں کمی بیشی ہوئی ہو۔اپنے ذمے کیوں بوجھ لیں۔ پس قرآن کو مقدم کرو اور حدیث کو قرآن پر عرض کرو۔ حکم نہ بنائو‘‘۔؎ٰ ۲۱ ؍ فروری ۱۹۰۲ء؁ ضروری اعلان حضرت مسیح موعود ادام اللہ فیوضہم نے ارشاد فرمایا ہے کہ الحکم کے ذریعہ اپنے تمام دوستوں کو اطلاع دی جاوے کہ چونکہ طاعون پنجاب کے اکتّر حصوں میں زور کے ساتھ پھیل گیا ہے اور پھیلتا جاتا ہے ایسی صورت میں یہ امر قرین مصلحت نہیں کہ ایسا مجمع ہو جس میں وبازدہ علاقون کے لوگ بھی شامل ہوں۔ اس لیے عیدالاضحیہ پر جو تجویز امتحان کی قرار پائی تھی وہ کسی دوسرے وقت کے لیے ملتوی کی جاتی ہے۔ وہ لوگ جن کے شہروں اور دیہات مین طاعون شدت کے ستھ پھیل گیا ہے؛ اپنے شہروں سے دوسری جگہ نہ جائیں۔اپنے مکانوں کی صفائی کریں اور انہیں گرم رکھیں اور ضروری تدابیر حفظ باتقدم کی عمل میں لائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سچی توبہ کریں اور پاک تبدیلی کر کے خدا تعالیٰ سے صلح کریں۔ راتوں کو اُٹھ اٹھ کر تحجدمیں دعائیں مانگیں۔ ہر ایک قسم کے فسق وخجور خیانت اور غلط کاری کی راہ سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اپنی حالت کی سچی تبدیلی ہی خدا کے اس عذاب سے بچاسک گی۔ ونعم ماقیل۔ خور تابان سیہ گشت است از بدکاری مردم زمین طاعون ہمی آرد پئے تخویف و انذارے بہ تشویش قیامت ماندایں تشویش گر بینی علاجے نیست بہر دفع آں جز حسن کر دارے ؎۲