مثلاً ہم نے ایک موقعہ پر عیسائیوں کے مثلث خدا کی تصویر دی ہے جس میں روح القدس بشکل کبوتر دکھایا گیا ہے اور باپ اور بیٹے کی بھی جدا جدا تصویر دی ہے۔ اس سے ہماری یہ غرض تھی کہ تاتثلیث کی تردید کر کے دکھائیں کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے۔ جو حیّ وقیوم ازلی و ابدی غیر متغیر اور تجسّم سے پاک ہے۔ اس طرح پر اگر خدمت اسلام کے لیے کوئی تصویر ہو، تو شرع کلام نہیں کرتی کیونکہ جو امور خادم شریعت ہیں ان پر اعتراض نہیں ہے۔
کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کے پاس کل نبیوں کی تصویریں تھیں۔ قیصر روم کے پاس جب صحابہ گئے تھے، تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اسکے پاس دیکھی تھی۔ تو یاد رکھنا چاہیے کہ نفس تصویر کی حرمت نہیں بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے جو لوگ لغو طور پر تصویریں رکھتے اور بناتے ہیں وہ حرام ہے۔ شریعت ایک پہلو سے حرام کرتے ہے اور ایک جائز طریق پر اسے حلال ٹھہراتی ہے۔ روزہ ہی کو دیکھو رمضان میں حلال ہے لیکن اگر عید کے دن روزہ رکھے تو حرام ہے۔ ؎
گر حفظ مراتب نہ کُنی زندیقی
حرمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک بالنفس حرام ہوتی ہے، ایک با نسبت۔ جیسے خنزیر بالکل حرام ہے۔ خواہ وہ جنگل کا ہو یا کہیں کا۔ سفید ہو یا سیاہ، چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہر ایک قسم کا حرام ہے۔ یہ حرام بالنفس ہے، لیکن حرام بالنسبت کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص محنت کر کے کسبِ حلال سے روپیہ پیدا کرے، تو حلال ہے۔ لیکن اگر وہی روپیہ نقب زنی قمار بازی سے حاصل کرے تو حرام ہوگا۔ بخاری کی پہلی ہی حدیث ہے۔ اناما الا عمال بالنیات۔
ایک خونی ہے اگر اس کی تصویر اس غرض سے لے لیں کہ اس کے ذریعہ اس کو شناخت کر کے گرفتار کیا جاوے تو یہ نہ صرف جائز ہو گی، بلکہ اس سے کام لینا فرض ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر ایک شخص اسلام کی تونیہ کرنے والے کی تصویر بھیجتا ہے تو اس کو اگر کہا جاوے۔ حرام کام کیا ہے تو یہ کہنا موذی کا کام ہے۔
یاد رکھو اسلامؔ بُت نہیں بلکہ زندہ مذہب ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل نا سمجھ موللیوں نے لوگوں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے۔
آنکھوں میں ہر شے کی تصویر بنتی ہے۔ بعض پتھر ایسے ہیں کہ جانور اُڑتے ہیں تو خود بخود اُن کی تصویر اتر آتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا نام مصور ہے۔ یصور کم فی الارحا م (اٰ لِ عمران : ۷) پھر بلا سوچے سمجھے کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔ اصل بات یہی ہے جو میں نے بیان کی ہے کہ تصویر کی حرمت غیر حقیقی ہے کسی محل پر ہوتی ہے اور کسی پر نہیں۔ غیر حقیقی حرمت میں ہمیشہ نیت کو دیکھنا چاہیے۔ اگر نیت شرعی ہے تو حرام نہیں؛ ورنہ حرام۔
حدیثوں ہی پر تکیہ نہ کر لو۔ اگر قرآن شریف پر حدیث کو ژقدم کرتے ہو تو پھر گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزا