آیا اور ناسوتی حصہ چا ہتا ہے بشری لوا زم کو ساتھ رکھے اور حضور علیہ الصلوۃ و السلا م میں یہ ساری با تیں پوری پا ئی جاتی ہیں۔آ پ نے شا دیا ں بھی کیں ۔بچے بھی ہوئے دوستوں کا زمرہ بھی تھا ۔فتوحات کر کے اختیاری قوتوں کے ہوتے ہوئے انتقام چھوڑ کر رحم کر کے بھی دکھایا ۔جبتک انسان کے پیرایہ پو رے نہ ہوں،وہ پوری ہمدردی نہیں کرسکتا۔اس حصّہ اخلاقِ فاضلہ ہیںوہ نامکمّل رہے گا۔
3-3 -05/
مثلاؔ جس نے شادی ہی نہیں کی وہ بیوی اور بچّوں کے حقوق کی کیا قدر کر سکتا ہے اور اُن پر اپنی شفقت اور ہمدردی کا کیا نمونہ دکھاسکتا ہے ۔ رہبانیّت ہمدردی کو دور کر دیتی ہے او ریہی وجہ ہے کہ اسلام میں رہبانیّت کو نہیں رکھا۔غرض کا مل شفیع وہی ہوسکتا ہے ، جس میں یہ دونوں حصّے کامل طور پر پائیں جائیں ، چونکہ یہ ایک ضروری امر تھا کہ شفیع ان دونوں مقامات کا مظہر ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے ہی اس سلسلہ کو ظلِ قائم رکھا ہے ، یعنی آدم علیہ السّلام کو پیدا کیا تو لا ہوتی حِصّہ تو اس میں یوں رکھ دیا ۔ جب کہا ۔
فاذا سریتہ ونفخت فیہ من روحی فقعو الہ ساجدین (الحجر :۳۰)
اور ناسوتی حصّہ یو ںرکھا کہ حوّا کو اس سے پید اکیا ۔
یعنی جب روح پھونکی تو ایک جو ڑ آدم کا خداتعالیٰ سے قائم ہو ا۔ اور جب حوّا نکالی تو دوسرا مخلوق کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ناسوتی ہوگیا ۔ پس جب یہ دونوںحصّے کامل طور پر کاملِ انسان میں نہ پائے جائیں وہ شفیع نہیں ہو سکتا ۔ جیسے آدم کی پسلی سے حوّا نکلی اسی طرح کامل انسان سے مخلوق نکلتی ہے ۔
تصویر او رنماز
ایک شخص نے دریافت کیا کہ تصویر کی وجہ سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی ۔جواب میںحضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السّلام نے فرمایا :
’’کفار کے تبتعّ پر تو تصویر ہی جائز نہیں ۔ ہاں نفس تصویر میں حرمت نہیں بلکہ اُس کی حُرمت اضافی ہے ،اگر نفس تصویر مُفسد نماز تو مَیں پوچھتا ہوں کہ کیا پھر روپیہ پیسہ نماز کے وقت پاس رکھنا مفسد نہیں ہوسکتا ۔ اس کا جوا ب اگر یہ دو کہ روپیہ پیسہ کا رکھنا اضطراری ہے۔ میں کہوں گا کیا اگر اضطرار سے پاخانہ آجاوے تو وہ مفسد نماز نہ ہو گا ۔ اور پھر وضو کرنا نہ پڑے گا ۔
اصل با ت یہ ہے کہ تصویر کے متعلق یہ دیکھنا ضرور ی ہے کہ آیااس سے کوئی دینی خدمت مقصود ہے یا نہیں ۔ اگر یوں ہی بے فائدہ تصویر رکھی ہوئی ہے اور اس سے کوئی دینی فائدہ مقصود نہیں تو یہ لغو ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ والذین ھم عن اللغو معرضون (المومنون : ۴) لغو سے اعراض کرنا مومن کی شان ہے، اس لیے اس سے بچنا چاہیے لیکن ہاں اگر کوئی دینی خدمت اس ذریعے سے بھی ہو سکتی ہو تو منع نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ علوم کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔