پر پھونکیں مارتے ہیں۔
گرہوں سے مراد وہ معضلات اور مشکلات شریعت ِ محمّدیہ ہیں ۔ جن پر جاہل مخالف اعتراض کرتے ہیں اور ان کو ایک پیچیدہ صورت میں پیش کر کے لوگو ں کو دھوکہ میں ڈالتے ہیں اور یہ دو قسم کے لوگ ۔ایک تو پادری اور ان کے دوسرے پس خوردہ کھانے والے اور دوسرے وہ نا واقف اور ضدّی مُلاں ہیں جو اپمی غلطی کو تو چھوڑتے نہیں اور اپنی نفسانی پھونکوں سے اس صاف دین میں اور بھی مشکلات پیدا کردیتے ہیںاور زنانہ خصلت رکھتے ہیںکہ خدا کے مامورو مرسل کے سامنے آتے نہیں۔پس ان لوگوںکی شرارتوںسے پناہ مانگتے ہیںاور ایسا ہی ان حاسدوں کے حسد سے پناہ مانگتے ہیںاور اس وقت سے پناہ مانگتے ہیں جب وہ حسدکرنے لگیں۔
اور پھر آخر ُسورۃ میںشیطانی وسوسوں سے محفوظ رہنے کی دُعا تعلیم فرمائی ہے ۔جیسے سُورۃ فاتحہ کو الضّالین پر ختم کیا تھا۔ویسے آخری سُورۃ میں بھی خنّاس کے ذکر پر ختم کیا تاکہ خنّاس اور الضالین کا تعلق معلوم ہو۔ اور آدم کے وقت میںبھی خناس جس کو عبرانی زبان میں نحاش کہتے ہیں۔جنگ کے لیے آیا تھا۔اس وقت بھی مسیح موعود کے زمانہ میں جو آدم کا مثیل بھی ہے ۔ضروری تھا کہ وہی نحاش ایک دوسرے لباس میں آتا اور اسی لیے عیسائیوں اور مسلما نو ں نے با تفاق یہ با ت تسلیم کی ہے کہ آ خری زما نہ میں آدم اور شیطا ن کی ایک عظیم الشان لڑائی ہو گی ، جس میں شیطا ن ہلا ک ہو جا و ے گا ۔ اب ان تما م امو ر کو دیکھ کر ایک خدا ترس آدمی ڈر جا تا ہے کیا یہ میرے اپنے بنا ئے ہوئے امور ہیں جو خدا نے جمع کر دیئے ہیں ۔
کس طرح پر ایک دائر ہ کی طر ح خد ا نے اس سلسلہ کو رکھا ہو اہے ولا الضّالین پر سو ر ۃ فاتحہ کو قرآن کا آغا ز ہے ختم کیا ور پھر قرآن شریف کے آخر میں وہ سو رتیں رکھیں جن کا تعلق سو رۃفا تحہ کے انجا م سے ہے ۔ ادھر مسیح اور آدم کی مماثلت ٹھہرا ئی اور مجھے مسیح مو عو د بنا یا ، تو ساتھ ہی آدم بھی میرا نا م رکھا ۔
یہ باتیں معمو لی باتیں نہیں ہیں ۔یہ ایک علمی سلسلہ ہے جس کو کوئی رد ّنہیں کر سکتا ، کیو نکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہا تھ سے بنیا د رکھی ہے۔
شفیع کون ہو سکتا
شفیع کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی جفت کے ہیں ۔اس لیے شفیع وہ ہو سکتا ہے جو دو مقا مات کا مظہر اتم ہویعنی مظہر کا مل لا ہو ت اور نا سو ت کا ہو ۔ لاہوتی مقا م کا مظہر کا مل ہو نے سے یہ مرا د ہے کہ اس کا خدا کی طر ف صعود ہو ۔ وہ خدا سے حا صل کرے اور نا سو تی مقام کے مظہر کا یہ مفہو م ہے کہ مخلو ق کی طرف اس کا نزول ہو جو خدا سے حا صل کرے وہ مخلو ق کو پہنچا دے اور مظہرکا مل ان مقا ما ت کا ہما رے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ,اسی کی طر ف اشا رہ ہے ۔
دنا فتدلی فکا ن قاب قو سین او اد نی (النجم :۹۔۱۰)
ہم دعویٰ سے کہتے ہین کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بِدو ں کامل حصہ مقا م لا ہو ت کا کسی نبی میں نہی