جس پر سورۃ فاتحہ کو ختم کر دیا ہے وہ نصاریٰ کا فتنہ ہے جو ولاالضالین میں بیان فرمایا ہے اب جب قرآن شریف کے انجام پر نظر کی جاتی ہے تو وہ بھی ان دونوں فتنوں کے متعلق کھلی کھلی شہادت دیتا ہے۔ مثلاً غیر المغضوب کے مقابل میں سورۃ تبت یدا ہے۔ مجھے بھی فتویٰ کفر سے پہلے یہ الہام ہوا تھا۔اذیمکر بک الذی کفر۔اوقد لی یا ھا مان لعلی اطلع علیٰ الہ موسیٰ و انی لا ظنہ من الکاذبین۔تبت یداابی لھب ۔یعنی وہ زمانہ یاد کر جبکہ مکفر تجھ پر تکفیر کا فتویٰ لگائے گا۔ اور اپنے کسی حامی کو جس کا لوگوں پر اثر پڑ سکتا ہو۔کہے گا کہ میرے لیے اس فتنہ کی آگ بھڑکا۔ تا میں دیکھ لوں کہ یہ شخص جو موسیٰ کی طرح کلیم اﷲ ہونے کا مدعی ہے۔ خدا اس کا معاون ہے یا نہیں اور میں تو اسے جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور آپ بھی ہلاک ہو گیا۔ اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس میں دخل دیتا، مگر ڈر ڈر کر اور جو رنج تجھے پہنچے گا وہ خدا کی طرف سے ہے۔
غرض سورۃ تبت میں غیر المغضوب علیہم کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور ولاالضالین کے مقابل قرآن سریف کے آخر میں سورۃ اخلاص ہے اور اس کے بعد کی دونوں سورتیں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ان دونوں کی تفسیر ہیں۔ ان دونوں سورتوں میں اس تیرہ وتار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے جبکہ مسیح موعود پر کفر کا فتوی لگا کر… مغضوب علیہم کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی۔ پس جیسے سورۃ فاتحہ میں جو ابتدائے قرآن ہے۔ ان دونوں بلائوں سے محفوظ رہے کی دعا سکھائی گئے ہے۔ اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہے کی دعا تعلیم کی۔ تا کہ یہ بات ثابت ہو جائے کہ اول بآخر نسبتے دارد۔
سورۃ فاتحہ میں جو اِن فتنوں کا ذکر ہے وہ کئی مرتبہ بیان کیا ہے مگر قرآن شریف کے آخر میں جو اِن فتنوں کا ذکر ہے وہ بھی مختصر طور پر سمجھ لو۔
الضالین کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں۔ اصل تو قل ھواﷲ ہے اور باقی دونوں سورتیں اس کی شرح ہیں قل ھواللہ کا ترجمہ یہ ہے کہ نصاریٰ سے کہدو کہ اﷲ ایک ہے۔ اﷲ بے نیاز ہے۔ نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا۔ اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔
پھر سورۃ الفلق میں اس فتنہ سے بچنے کے لیے یہ دعا سکھائی قل اعوذبرب الفلق۔ یعنی تمام مخلوق کے شرّ سے اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو رب الفلق ہے یعنی صبح کا مالک ہے۔ یا روشنی ظاہر کرنا اسی کے قبض و اقتدار میں ہے۔ رب الفلق کا لفظ بتاتا ہے کہ اس وقت عیسائیت کے فتنہ اور مسیح موعود کی تکفیر اور توہین کے فتنہ کی اندھیری رات احاطہ کرے گی۔اور پھر کھول کر کہا کہ شر غاسق اذا وقب اور میں اس اندھیری رات کے سر سے جو عیسائیت کے فتنہ اور مسیح موعود کے انکار کے فتنہ کی شبِ تار ہے، پناہ مانگتا ہوں۔ پھر فرمایا
ومن شرالنفثت فی العقد (الفلق : ۵)
اور میں ان زنانہ سیرت لوگوں کی سرارت سے پناہ مانگتا ہوں جو گنڈوں