یہ معاملہ گویا دوستانہ معاملہ ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جیسی عظیم الشان قبولیت دعائوں کی ہے۔ اس کے مقابل رضا اور تسلیم کے بھی آپ اعلیٰ درجہ کے مقام پر ہیں۔ چنانچہ آپ کے گیارہ بچے مر گئے، مگر آپؐ نے کبھی سوال نا کیا کہ کیوں؟ جو لوگ فقراء اور اہل اﷲ کے پاس آتے ہیں۔ اکثر اُن میں سے محض آزمائش اور امتحان کے لیے آتے ہیں۔ وہ دعا کی حقیقت سے نا آشنا ہوتے ہیں، اس لیے پورا فائدہ نہیں ہوتا۔ عقلمند انسان اس سے ھائدہ اُٹھاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر دعا نہ ہوتی تو اہل اﷲ مرجاتے۔ جو لوگ دعا کے منافع سے محروم ہیں ان کو دھوکا ہی لگا ہوا ہے کہ وہ دعا کی تقسیم سے نا واقف ہیں۔ میرا جب سب سے پہلا لڑکا فوت ہوا تو اس کو ایک سخت غشی کی حالت تھی۔ گھر میں اس کی والدہ نے جب وہ نماز میں مصروف ہو گئے اور جب نماز سے فارغ ہو کر مجھ سے پوچھا تو اُس وقت چونکہ انتقال ہو چکا تھا۔ میں نے کہا کہ لڑکا مر گیا ہے انہوں نے پورے صبر اور رضا کے ساتھ اناﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ خدا جس امر میں نامراد کرتا ہے، اس نامرادی پر صبر کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ اسی صبر کا نتیجہ ہے کہ خدا نے ایک کی بجائے چار لڑکے عطا فرمائے۔ الغرض دعا بڑی دولت ہے۔ بے صبر ہو کر دعا نہ کرے، بلکہ دعائوںمیں لگا رہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے‘‘۔ قرآن مجید میں فتنئہ دجال کا ذکر اول بآخر نسبتے دارد قرآنِ شریف کو سورۃ فاتحہ سے شروع کر کے غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین۔(الفاتحہ : ۷) پر ختم کیا ہے، لیکن جب ہم مسلمانوں کے معتقدات پر نظر کرتے ہیں، تو دجال کا فتنہ اُن کے ہاں عظیم الشان فتنہ ہے اور یہ ہم کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ دجال کا ذکر ہی بھول گیا ہو۔ نہیں ۔بات اصل یہ ہے کہ دجال کا مفہوم سمجھنے میں لوگوں نے دھوکا کھایا ہے۔ سورۃ فاتحہ میں جو دو فتنوں سے بچنے کی دعا سکھائی ہے۔ اول غیرالمغضوب علیہم غیر المغضوب سے مراد باتفاق جمیع اہل اسلام یہود ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت امّت پر آنے والا ہے جبکہ وہ یہود سے تشابہ پیدا کرے گی اور وہ زمانہ مسیح موعود ہی کا ہے۔ جنکہ اس کے انکار اور کفر پر اسی طرح زور دیا جائے گا جیسا کہ حضرت مسیح ابنِ مریم کے کفر پر یہودیوں نے دیا تھا۔ گرض اس دعا میں یہ سکھایا گیا کہ یہود کی طرح مسیح موعود کی توہین اور تکفیر سے ہم کو بچا اور دوسرا عظیم الشان فتنہ جس کا ذکر سورۃ فاتحہ میں کیا ہے اور