پس یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن شریھ دہریوں کی طرح تمام امور کو اسباب طبیعہ تک محدود رکھنا نہیں چاہتا بلکہ خالص توحید پہنچانا چاہتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے دعا کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور نہ قضاوقدر کے تعلقات کو جو دعا کے ساتھ ہیں تدّبر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ جو لوگ دعا سے کام لیتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ان کے لیے راہ کھول دیتا ہے۔ وہ دعا کو رد نہیں کرتا ۔ایک طرف دعا ہے۔دوسری طرف قضاوقدر ۔ خدا نے ہر ایک کے لیے اپنے رنگ میں اوقات مقرر کر دیئے ہیں۔اور ربوبیت کے حصہ کو عبودیت میں دیا گیا ہے اور فرمایا ہے ادعونی استجب لکم (المومن : ۶۱) مجھے پکارو میں جواب دوں گا۔ میں اس لیے ہی کہا کرتا ہوں کہ ناطق خدا مسلمانوں کا ہے، لیکن جس خدا نے کوئی ذرہ پیدا نہیں کیا یا جو خود یہودیوں سے طمانچے کھا کر مر گیا وہ کیا جواب دیگا۔ تو کار زمین را نکو ساختی کہ با آسمان نیز پر داختی جبر اور قدر کے مسئلہ کو اپنی خیالی اور فرضی منطق کے معیار پر کسنا دانشمندی نہیں ہے۔ اس سر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنا بیہودہ ہے۔ الوہیت اور ربوبیت کا کچھ تو ادب بھی چاہیے اور یہ راہ تو ادب کے خلاف ہے کہ الوہیت کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش کی جاوے۔ الطریقۃ کلھا ادب۔ قضاوقدر کا دعا کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔ دعا کے ستگ معلق تقدیر ٹل جاتی ہے۔ جب مشکلات پیدا ہوتے ہیں تو دعا ضرور اثر کرتی ہ۔ جو لوگ دعا سے منکر ہیں، ان کو ایک دھوکہ لگا ہوا ہے۔ قرآن شریف نے دعا کے دو پہلو بیان کئے ہیں۔ ایک پہلو میں اﷲ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور دوسرے پہلو میں بندے کی مان لیتا ہے۔ ولنبلو نکم بشیء من الخوف والجوع (البقرہ : ۱۵۶) میں تو اپنا حق رکھ کر منوانا چاہتا ہے۔ نون ثقیلہ کے ذریعہ سے جو اظہار تاکید کیا ہے۔اس سے اﷲ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ قضائے مبرم کو ظاہر کریں گے تو اس کا علاج اناللہ وانا الیہ راجعون (البقرہ : ۱۵۷) ہی ہے۔اور دوسرا وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی امواج کے جوش کا ہے وہ ادعونی استجب لکم (المومن : ۶۱) میں ظاہر کیا ہے۔ پس مومن کو ان دونوں مقامات کا پورا علم ہونا چاہیے۔ صوفی کہتے ہیں کہ فقر کامل نہیں ہوتا، جبتک کہ وقت کو شناخت نہ کرے۔ سید عبدالقادر جیلانی ؓ فرماتی ہیں کہ دعا کے ساتھ شقی سعید کیا جاتا ہے، بلکہ وہ تو یہانتک کہتے ہیں کہ شدیدالاختفا امور مشبہ بالمبرم بھی دور کیے جاتے ہیں۔ الغرض دعا کی اس تقسیم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی اﷲ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور کبھی وہ مان لیتا ہے۔