بدی شیطان یا نفس کی طرف سے ہوتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ وہ بدی جس کو بدی سمجھا جاوے، مگر بعض بدیاں ایسی ہیں کہ اُن کے اسرار اور حکم اور مفہوم سے ہم آگاہ نہیں ہیں۔ جیسے آدم کا دانہ کھانا۔ غرض ہزار ہا اسرار ہیں جو مستحد ثات کا رنگ دکھانے کے لیے کر رکھے ہیں قرآن شریف میں ہے۔ ماکان لنفس ان تموت الا باذن اﷲ (آلِ عمران : ۱۴۶) تموت میں روحانی اور جسمانی دونوں باتیں رکھی ہوئی ہیں۔ ایسے ہی ہدائت اور ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس پر اعتراض یہ ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ لغو ہو جاتا ہے۔ ہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ کوئی ایسی فہرست پیش کرو جس میں لکھا ہو کہ فلاں شقی ہے۔ انبیاء علیہم السلام جب دعوت کرتے تو اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی اثر مترتب ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی دعا کے ساتھ بھی۔اﷲ تععلیٰ قضا وقدر کو بدل دیتا ہے اور قبل ازوقت اس تبدیلی کی اطلاع بھی دیدیتا ہے۔ اس وقت ہی دیکھو کہ جو رجوع لوگوں کا اس سلسلہ کی طرف اب ہے۔ براہینؔ احمدیہ کے زمانہ میں کب تھا۔ اس وقت کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ میں نے خود عیسائیوں کی کتابیں پڑھی ہیں ،لیکن اﷲ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ایک طرفتہالعین کے لیے بھی عیسائی مذہب کی سچائی کا خیال میرے دل میں نہیں گزرا وہ قرآن شریف کی اس تعلیم پر کہ خدا کے ہاتھ میں ضلالت اور ہدایت ہے اعتراض کرتے ہیں، لیکن اپنی کتابوں کو نہیں پڑھتے۔ جن میں لکھا ہے کہ شریر جہنم کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یا مثلاً یہ لکھا ہے کہ ھرعون کا دل سخت ہونے دیا۔ اگر لفظوں پر ہی اعتراض کرنا ہو تو عیسائی ہمیں بتائیں اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ بد دیانت آدمی سے تو مرے ہوئے کتے سے بھی زیادہ بد بُو آتی ہے۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ ان پادریوں کا اسلام پر ایسا اعتراض نہیں ہے جو توریت اور انجیل کے ورق ورق پر صاف صاف نہ آتا ہو۔ ایسا ہی رگ وید اور فارسیوں اور سناتنیوں کی کتابوں سے پایا جاتا ہے۔ قرآن شریف نے ان امور کو جن سے احمق معترضوں نے جبر کی تعلیم نکالی ہے۔ محض اس عظیم الشان اصول کو قائم کرنے کے لیے بیان کیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ایک ہے اور ہر ایک امر کا مبدء اور مرجع وہی ہے وہی علت العلل اور مسبّب الا سباب ہے۔ یہ غرض ہے جو اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض درمیانی وسائط اٹھا کر اپنے علّت العلل ہونے کا ذکر فرمایا ہے: ورنہ قرآن شریف کو پڑھو اس میں بڑی صراحت کے ساتھ ان اسباب کو بھی بیان فرمایا جس کی وجہ سے انسان مکلّف ہو سکتا ہے۔ علاوہ بریں قرآن شریف جس حال میں اعال بَد کی سزا ٹھہراتا ہے اور حدود قائم کرتا ہے۔ اگر قضا وقدر میں کوئی تبدیلی ہونے والی نہ تھی اور انسان مجبور مطلق تھا، تو ان حدود شرائع کی ضرورت ہی کیا تھی۔