انسان دونوں کو ہوتا ہے اور کبھی ایک ہی کو۔
[ہم اس عقدہ کو حل کرنے کے لیے ذرا مثال کے طور پر سمجھا دیتے ہیں بہت سے لوگ ایسے ہوں گے بلکہ قریباً ہر ایک شخص پر اس قسم کے واقعات گزرے ہوں گے کہ جب کبھی وہ کسی گناہ کی حالت میں گرفتار ہونے کو ہوا ہے تو رویا میں حضرت اقدسؑ کی اُس نے زیارت کی اور اس گناہ کی حالت سے بچ گیا۔ اس قسم کے تمثیلات وہ ہوتے ہیں جن میں اﷲ تعالیٰ مامور کا رسول ہو کر اپنا فیض پہنچاتا ہے ؎ٰ]
بغیر تاریخ کے ۱۹۰۲ء
قضا اور دعا
قدر اور جبر پر بڑی بڑی بحثیں ہوئی ہیں، مگر تعجب کی بات ہے کہ لوگ اس پر کیوں بحث کرتے ہیں۔ میرا مذہب یہ ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد ہی اس قسم کی بحثوں کی بنیاد پڑی ہے؛ ورنہ انسانیت یہ چاہتی تھی کہ ان پر توجہ نہ کی جاوے ۔ جب روحانیت کم ہو گئی تو اس قسم کی بحثوں کا بھی آغاز ہو گیا۔
جس شخص کا یہ ایمان نہ ہو کہ
انما امرہ اذا ارادشبیئا ان یقول لہ کن فیکون (یٰسٓ : ۸۳)
میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اُس نے خدا تعالیٰ کو نہیں پہچانا اور ایسا ہی اس شخص نے بھی شناخت نہیں کیا جو اس کو علیم بذات الصّدور اور حیّ و قیوم کہ دوسروں کی حیات و قیام اسی سے ہے اور وہ مدبّر بالطّبع نہیں مانتا جو فلاسفروں کا عقیدہ ہے۔ غرض ہم اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ بات قریب بہ کفر ہو جاتی ہے۔ اگر یہ تسلیم کریں کہ کوئی حرکت یا سکون یا ظلمت یا نور بُدوں خدا کے ارادے کے ہو جاتا ہے اس پر ثبوت اوّل قانونِ قدرت ہے۔ انسان کو اﷲ تعالیٰ نے دو آنکھیں ، دو کان ایک ناک دیئے ہیں۔ اتنے ہی اعضاء لے کر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر اسی طرح عمر ہے اور بہت سے امور ہیں جو ایک دائرہ کے اندر محدود ہیں۔ بعض کے اولاد نہیں ہوتی۔ بعض کے لڑکے یا لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔ غرض یہ امور خدا تعالیٰ کے قدیر ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔
پس ہمارا مذہب یہ ہے کہ خدا کی اُلوہیّت اور ربوبیّت ذرّہ ذرّہ پر محیط ہے؛ اگر چہ احادیث میں آیا ہے کہ