قبول ہونے والی دُعاکا راز دُعاجب قبول ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دل میں ایک جوش اور اضطراب پیدا کر دیتا ہے او ربسا اوقا ت اللہ تعالے ٰ خد ہی ایک دُعا سکھاتا ہے اور الہامی طور پر اُس کا پیرایہ بتادیتا ہے جیسا کے فرمادیتا ہے فتلقی ادم من ربہ کلمات (البقرہ ۳۸ ) اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو قبول ہونے والی دُعا ئیں خود سکھادیتا ہے ۔ بعض اوقات ایسی دُعائیں ایسا حصّہ بھی ہوتا ہے جن ک ودُعا کرنے والا ناپسند کرتا ہے ، مگر وہ قبول ہو جاتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس آیات کے مصداق ہیں ۔ عسیٰ ان تکرھو شیئاوھوا خیرلکم ( البقرہ ۲۱۷) مامُور من اللہ کی سچّی ہمدردی مامُورمن اللہ جب آتا ہے تو اس کی فطرت میں سچُی ہمدردی رکھی جاتی ہے اور یہ ہمدردی عوام سے بھی ہوجاتی ہے اور جماعت سے بھی ۔ اس ہمدردی میں ہمارے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھے ہوئے تھے ۔ اس لیے کہ آپؐ کُل دنیا کے لیے مامُور ہو کر آئے تھے اور آپ ؐ سے پہلے جس قدر نبی آئے وہ مختص القوم اور مختص الزمان کے طور پرتھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا اور ہمیشہ کے لیے نبی تھے ، اس لیے آپ ؐ کی ہمدردی بھی کامل ہمدردی تھی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ لعلک باخع نفسک الایکونو مومنین ( الشعرا ء : ۴ ) ‏اس کے لیے ایک تویہ معنے ہیں کہ کیا تو ان کے مومن نہ ہونے کی ھکر میں اپنی جان دے دیگا۔ اس آیت سے اس درد اور ھکر کا پتہ لگ سکتا ہے جو آپؐ کو دنیاکی تباہ حالت دیکھ کر ہوتا تھا کہ وہ مومن بن جاوے۔ یہ تو آپؐ کی عام ہمدردی کے لیے ہے اور یہ معنے بھی اس آیت کے ہیں کہ مومن کو مومن بنانے کی ھکر میں تو اپنی جان دے دیگا۔ یعنی ایمان کو کامل بنانے میں۔ اسی لیے دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے یا ایھا الذین امنوا امنواباﷲورسولہ (النساء : ۱۳۷) بظاہر تو یہ تخصیل حاصل معلوم ہوتی ہوگی، لیکن جب حقیقت حال پر غور کی جاوے، تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کئی مراتب ہوتے ہیں، اس لیے اﷲ تعالیٰ تکمیل چاہتا ہے۔ غرض مامور کی ہمدردی مخلوق کے ساتھ اس درجہ کی ہوتی ہے کہ وہ بہت جلد اُس سے متاثر ہو تے ہے۔ اﷲ تعالیٰ اور اُس کے ماموروں کے درمیان دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔مامور تو اﷲ تعالیٰ کا رسول ہوتا ہی ہے، لیکن بعض مقامات پر اﷲ تعالیٰ بھی مامور کا رسول ہو جاتا ہے۔ یہ ایک باریک بھید ہے جس کو ہر شخص جلدی نہیں سمجھ سکتا۔یہ صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مامور اپنی جماعت کو اپنی منشاء کے موافق نہیں دیکھتا تو اس کے دل میں ایک درد پیدا ہوتا ہے اور اس پر ایک ٹھوکر لگتی ہے۔ اس وقت خدا تعالیٰ تمثیلی طور پر بعض افرادکو اُن کے عیوب اُن پر ظاہر کر دیتا ہے اور کبھی اس ھعل کا علم مامور اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے