بھی آیا اور اس سے ج لوگوں نے پوچھا تو اُس یہی کہا کہ یہ منہ تو جھوٹوں کا نہیں ہے اور مقتصد لوگ وہ ہوتے ہیں جو دلائل اور معجزات کے محتاج ہوتے ہیں اور تیسری قسم ظالمین کی ہے جو سختی سے مانتے ہیں ۔جیسے موسیٰ علیہ السّلام کے زمانے میں کبھی طاعون سے اورکبھی زلزلہ سے ہلاک ہوئے اور دُوسروں کے لیے عبرت گاہ بنے ۔یہ ایک قسم کا جبر ہے جو اس تیسری قسم کے لیے خداتعالیٰ نے رکھا ہوا ہے اور سلسل نبوّت میں ی لازمی طور پر پایا جاتاہے ۔ مامُور من اللہ شفیع ہوتا ہے مامُور اللہ کی دعاؤں کا کُل جہان پر اثر ہوتا ہے اور یہ خداتعالیٰ کاایک قانون ہے جس کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا ہے ۔ جن لوگوں نے شفیع کے مسئلہ سے انکار کیا انھوں نے سخت غلطی کھائی ہے ۔ شفیع کو قانون قدرت چاہتاہے ۔ اُس کو ایک تعلق شدید خداتعالیٰ سے ہوتا ہے اور دُوسرا مخلوق سے ۔ مخلوق کی ہمدردی اس میںاس قدر ہوتی ہے کہ یُوںکہناچاہئیے کہ اُس کے قلب کی بناوٹ ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہمدردی کے لیے جلد متاثرہوجاتاہے اس لیے وُہ خداسے لیتاہے اپنی عقدہمّت اور توجّہ سے مخلوق کو پہنچاتاہے اور اپنا اثر اُس پر ڈالتا ہے ۔اور یہی شفاعت ہے ۔ انسان کی دُعااور توجّہ کے ساتھ مصیبت کارفع ہونا یا مصیبت اور ذنوب کا کم ہونا یہ سب شفاعت کے نیچے ہے ۔ توجہ سب پر اثر کرتی ہے خواہ مامُور کو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کانام بھی یا د ہونہ ہو ۔ ۱؎ ۱۵جنوری۱۹۰۲؁ء (بقیہ تقریر ) مامُور کی صُحبت شریعت کی کتابیں حقائق اور معارف کا ذخیرہ اہوتی ہیں ۔ لیکن حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیںمل سکتی جب تک صادق کی صُحبت اخلاص او رصدق سے اختیار نہ کی جاوے ۔ اس لیے قران شریف فرماتا ہے ۔ یاایھاالزین امنو اتقوا اللہ راکونو مع الصادقین (التوبہ ۱۹ ) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور اتقاء کے مدارج کامل طور پر کھبی حاصل نہیں ہوسکتے جب تک صادف کی معیّت او رصُحبت نہ ہو ، کیونکہ اس کی صُحبت میں رہ کر وہ اس کے انفاس ِطیّبہ عقد ہمت اور توجہ سے فائدہ اُٹھاتاہے ۔