گناہ کی زندگی سے اُن کو نکالاکہ عالم ہی پلٹ دیا ۔ایساہی حضرت موسیٰ کی شفاعت سے بھی فائدہ پہنچا عیسائی جو مسیح کو مثیل موسیٰ قراردیتے ہیں تو یہ ثابت نہیں کرسکتے کے موسیٰ کی طرح اُنھوں نے گناہ سے قوم کو بچایا ہو۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کے بعد قوم کی حالت بہت بگڑ گئی اور اب بھی اگر کسی کو شک ہو تولنڈن یا یورپ کے دوسرے شہروں میں جا کردیکھ لے کہ آیا گناہ سے چھُڑالیا ہی یا پھنسادیا ہے اور یو ں کہنے توایک چوہڑابھی کہہ سکتا ہے کہ بالمیک نے چھڑایا مگر یہ ۔۔۔۔۔۔نرے دعوے ہی ہیں جن کے ساتھ کوئی واضح ثبوت نہیںہے ۔پس عیسائیوں کایہ کہنا کہ مسیح چھوڑنے کے لیے آیا تھا ۔ ایک خیا لی بات ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ا۲ن کے بعد قوم کیی حالت بہت
بگڑگئی اور روحانیت سے بہت دور جاپڑی ۔
۰۵۔۳۔۲
ہاں سچّا شفیع اور کامل شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے قوم کو بت پرستی اورہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوںسے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنادیا اور پھر ا س کاثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں آپ ؐکی پاکیزگی اور صداقت کے ثبوت کے لیے اللہ تعالیٰ نے نمونہ بھیج دیتاہے اس کے بعد استغفار کا مسئلہ بھی قابل غور ہے ۔عیسائیوں نے اپنی جہالت اور نادانی سے اس پاک اصول پر نکتہ چینی کی ہے ،حالانکہ یہ انسان کی طبعی منزلوں میں سے ایک منزل ہے ۔
جاننا چاہئیے کے اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کیے ہیں۔اَلْحَیّ اور اَلْقَیّوم۔ الحیّ کے معنی ہیںخود زندہ اور دوسروں کو زندگی عطاکرنے والا ۔القیّوم ؔخود قائم اور دوسروں کے قیام کااصلی باعث ۔ہر ایک چیز کا ظاہری باطنی قیام اور زندگی انہیں دونوں کے طفیل سے ہے ۔پس حیّؔکا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں
ایاک نعبد
ہے اور القیوم ؔچاہتا ہے کہ اس سے سہار اطلب کیاجاوے اس کو
ایاک نستعین
کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے ۔
حیّ کا لفظ عبادت کو اس لیے چاہتا ہے کہ اس نے پیدا کیا ہے اور پھر پید اکر کہ چھوڑ نہیں دیاہے ۔ جیسے مثلاً معمار جس نے عمارت کو بنایا ہے اُس کا مر جانے سے عمارت کا کوئی حرج نہیں ہے ، مگر انسان کو خداکی ضرورت ہر حال میں رہتی ہے ۔اس لیے ضروری ہواکہ خداسے طاقت طلب کرتے رہیںاور یہی استغفار ہے ۔ اصل حقیقت تو استغفار کی یہ ہے ۔ پھر اس کو وسیع کر کے اُن لوگوں کے لیے کیاگیا کہ جو گناہ کرتے ہیں کے اُن کے بُرے نتائج سے محفو ظ رکھا جاوے ، لیکن اصل یہ ہے ک انسانی کمزوریوں سے بچایا جاوے ۔ پس جو شخص انسان ہو کر استغفار کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بے ادب اور دہریّہ ہے ۔ ۱؎