۱؎ الحکم جلد ۶ نمبر ۹ صفحہ ۶۔۶ پرچہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۲ء
۱۵جنوری ۱۹۰۲ء
عصمت اور شفاعت
(ایڈیٹرکے اپنے الفاظ میں )
فرمایا :
تعجب ہے عیسائی لوگ شفاعت کے لیے عصمت کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں کیوں کہ ان کہ ہاں فری عصمت شفاعت کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ شفاعت تب ہو سکتی ہے جب کہ شفیع معصوم ہو اور پھر وہ ابن اللہ ہو اور پھر صلیب پر لٹکایا جاکر ملعون ہو ۔ جب تک یہ تثلیث عیسائی مذہب کے عقیدہ کے موافق قائم نہ ہو ۔ شفیع نہیں ہوسکتا ۔ پھر وہ عصمت عصمت ہی کیوں پکارتے ہیں ۔ کیا اگر کوئی معصوم اُن کے سامنے پیش کیا جاوے یا ثابت کردیا جاوے تو وہ مان لیں گے کہ وہ شفیع ہے ؟ہر گز نہیں ۔ بلکہ عیسائی عقیدہ کے موافق یہ ضروری ہے کہ وہ خدا بھی نہ ہو بلکہ ابن اللہ ہو اور وہ مصلوب ہو کر جب تک ملعون نہ ہولے ۔ ہر گز ہرگز وہ شفیع نہیں سکتا اور پھر ایک اور بات قابل ِغور ہے کہ جب یسوع خود خدا تھا اور اس لیے علّۃ العلل تھا اور اس نے کل جہان کے گناہ بھی اپنے ذمے لے لے پھر وہ معصوم کیونکر ہو اور گناہوں کا تذکرہ ہم چھوڑتے ہیں جو یہودی مورخوں اور فری تھنکروں (آزاد خیا ل )نے ان کی انجیل سے ثابت کیے ہیں ۔ لیکن جب اس نے خو دگناہ اُٹھالیے اور بوجہ علت العلل ہونے کے سارے گناہوں کا کرانے والا ہی وہی ٹھہرا ۔ تو پھر اسے معصوم قرار دینا عجیب دانشمندی ہے ۔ پھر خداکا نام معصوم نہیں ۔ کیونکہ معصوم وہ ہو جس کا کوئی دوسرا عاصم ہو ۔ خدا کا نام عاصم ہے ۔ اس لیے جب شفاعت کے لیے انبیت کی ضرورت ہے اور اُس کے لیے بھی مصلوبیت کی لعنت ضروری ہے تو یہ سارا تانابانا ہی بنائے فاسد بر فاسدکا مصداق ہے ۔
حقیقی اور سچّی بات یہ ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کی تھی کہ شفیع کے لیے ضرورت ہے اوّل خدا تعالیٰ سے تعلق کامل ہو ۔ تاکہ وہ خدا سے فیض کو حاصل کر ے اور پھر مخلوق سے شدید تعلق ہوتاہے کہ وہ فیض اور خیر جو وہ خدا سے حاصل کرتاہے مخلوق کو پہنچاوے ۔جب تک یہ دونوں تعلق شدید نہ ہوں شفیع نہیں ہوسکتا پھر اسی مسئلہ پر تیسری بحث قابلِ غور یہ ہے کہ جب تک یہ دونوں نمونے نہ دیکھے جائیں کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا اور ساری بحثیں فرضی ہیں ۔ مسیح کے نمونہ کودیکھ لو کہ چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکے ۔ ہمیشہ اُن کو سُست اعتقاد کہتے رہے بلکہ بعض کو شیطان بھی کہا اور انجیل کی رو سے کوئی نمونہ کامل ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ بالمقابل ہمارے نبی کریم ﷺکامل نمونہ ہیں کہ کیسے روحانی اور جسمانی طور پر انھوں نے عذاب الیم سے چھڑایااور