۱۵جنوری ۱۹۰۲ء
مخالفانہ تحریروں کاجواب
مخالف جو گالیاں دیتے ہیں گندے اور ناپاک اشتہار شائع کرتے ہیں ۔ ہم کو اُن کا جواب گالیوںسے کبھی دینا نہیں چاہئیے ۔ ہم کو سخت زبانی کی ضرورت نہیں ، کیونکہ سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے ،اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ اپنی برکت کو کم کریں ۔اُن کو تو مخاطب کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔یہ لوگ بجائے خود واجب الرحم ہیں ۔ہاں فضول باتوں کو نکال کر اگر کسی معقول اعتراض کا جواب عوام کو دھوکہ سے بچانے کے لیے دیا جاوے تو نامناسب نہیں ۔اگر ہم ان کے مقابل پر سخت زبانی کا استعمال کریں ۔تو یہ تو اپنے مرتبے کا بھی تذلّل ہے ۔اگر کبھی کوئی سخت لفظ استعمال کیا گیا ہے تو وہ حق کی لازمی مرارت ہے جو دوا کے طور پر ہے جس کی نظیر انجیل اور نبیوں کے کلام میں پائی جاتی ہے ۔رِیس اور تقلید کرنا انبیاء کا کام نہیں۔نام تو وہی ہوتا ہے جو آسمان پر رکھا جاتا ہے ۔کسی کے ظالم ۔کافر کہنے سے کیا بنتا ہے ۔زمینی ناموںکا آخر خاتمہ ہو جاتا ہے اور آسمانی نام ہی رہ جاتے ہیں ۔ پس دنیا کے کیڑوں کے ناموں کی کیا پروا؟اُس نام کی قدر کرو جو آسمان پر نیک لکھاجاوے۔
مسیح کے دو زرد چادروں میں نزول
زرد چادروں سے مُراد اگر یہی ہے جوہمارے مخالف بیان کرتے ہیں توپھر عام ہندو جو گیوں اور مسیح میں مابہ الامتیاز کیا ہوگ ۔ اصل میں خداکی چادر اپنے الگ معنی رکھتی ہے اور وہ وہی ہیں جوخداتعالیٰ نے مجھ پر کھولے ہوئے ہیں کہ دوزرد چادروں سے مُراد دو بیماریا ں ہیں جو مجھے لاحق حال ہیں ۔
آداب ِتبلیغ
دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں عوامؔ۔ متوّط ؔدرجے کے ۔اُمرائًؔ ۔ عوام عموماً کم فہم ہوتے ہیں ۔ اُن کی سمجھ موٹی ہوتی ہے ۔ اس لیے اُن کو سمجھانہ بہت مشکل ہی ہوتاہے ۔ اُمراء کے لیے سمجھانہ بھی مشکل ہوتاہے ، کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبراجاتے ہیں اور اُن کا تکبر اور تعلیّ اور بھی سَدِّراہ ہوتی ہے ۔
اس لیے اُن کے ساتھ گفتگوکرنے والے کو چاہئیے کہ وہ اُن کے طرز کے موافق اُن سے کلام کرے یعنی مختصر مگر پورے مطلب کو ادا کرنے والی تقریر ہو۔ قَلَّ وَدَلَّ مگر عوام کو تبلیغ کرنے کے لیے تقریر بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہئیے ۔ رہے اوسط درجہ کے لوگ ۔ زیادہ تر گردہ اس قابل ہوتاہے کہ ان کی تبلیغ کی جاوے ۔ وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور اُن کے مزاجمیں وہ تعلیّاور تکبّر اور نزاکت بھی نہیں