صاف شہادت دے دی اور کسوف و خسوف ظاہر ہوگیا جو عظیم الشان نشان مقرر ہو چکاتھا ۔ تائیدی نشانوںکی تعداددن بدن بڑھ رہی ہے وہ اُسے دیکھتے سلسلہ کی ترقیات پر غور کرتے اور سوچتے کیا مفتری اس طرح ترقی کیا کرتے ہیں ؟ ان سب اُمور پر یکجائی نظر کے بعد تقویٰ کا تقاضاتو یہ تھا کہ اس قدر بینؔ شواہد ہوتے ہوئے بھی اگر ان کی نگاہ تاریک تھی ۔تو ہو خاموش ہو جاتے او رصبر سے انتظار کرتے کے انجام کیا ہوتا ہے ۔ مگر یہاں تو شورِعظیم میری مخالفت میںبرپا کیاگیا او ر گندی گالیا ں دی گئیں جن کی نظیر پہلے مخالفو ں میں بھی پائی نہیں جاتی ۔ حجج الکرمہ میں نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ آیا ت پوری ہوگئی ہیں اور پھر اپنی اولاد کو سلام کی وصیّت کرتاہے ۔ مگر کہتاہوں کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو خود بھی ان مخالفت کرنے والوں ہی کے ہمراہ ہوتے۔یہ لوگ کب ماننے والے ہوتے جب تک وہی نظارہ آنکھوں سے نہ دیکھ لیں جو خیالی طور پر دل میں فرض کر رکھا ہے ۔ یہ لوگ جو کچھ ان سے بن پڑتاہے میری مخالفت میں کریں مجھے ذر ابھی پرواہ نہیں کیونکہ یہ میرامقابلہ نہیں ۔یہ توخداسے مقابلہ کیا جاتاہے اگر میری اپنی مرضی پر ہوتا ۔ تو میں تخلیہ کو بہت پسند کرتاتھا۔ مگر میں کیا کر سکتا تھا جب کہ خداتعالیٰ نے ہی ایسا پسند کیا ہے ۔ یہ مقابلہ کریں ۔ مگر دیکھ لیں گے کے خداتعالیٰ کے ساتھ کو ئی جنگ نہے ں کرسکتا۔ وہ ایک طرفہ العین میں سالہاسال کی کاراوئی کو ملیا میٹ کر دیتا ہے ۔ اس لیے ہمں یہ خوشی ہے کہ ان کی مخالفت سے ذرابھی رنج نہیں ہوتا ہے ۔ کیونکہ ہمارا خدا ایسا خدا ہے جو سار ی خوبیوںسے متصف ہے جیسے کہ الحمد للہ میں ہم کوپہلے ہی بتایا گیا ہے ۔ پھر خداداری چہ غم داری ہمیں ان کی مخالفت کا کیا فکر ؟ ہم کیوں بے حوصلہ ہوں ؟کیا معلوم ہے کہ اُس نے اُس مخالفت کے طوفان کے انجام کیا مقدر رکھاہے ؟یہ جو خداتعالیٰ نے فرمایا ہے واستفتحودخاب کل جبار عنیہ (ابراہیم :۱۶) اس سے معلو م ہوتا ہے جب انبیاء او ر رسُل آتے ہیں وہ ایک وقت تک صبر کرتے ہیں اور مخالفوں کی مخالفت جب انتہا تک پہنچ جاتی ہے تو ایک وقت توجہ تام سے اقبال اللہ کر کے فیصلہ چاہتے ہیں اور پھر نتیجہ یہ ہوتاہے ۔ دخاب کل جبار عنیہ۔ استفتحوا سنت اللہ کو بیا ن کرتاہے کہ وہ اس وقت فیصلہ چاہتے ہیں اور اس فیصلہ چاہنے کی خواہش ان میں پیدا ہی ا س وقت ہوتی ہے جب گویا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے پس ہم اپنی مخالفوں کی مخالفت کی کیا پرواہ کریں یہ مخالف نوبت بہ نوبت اپنے فرضیِ منصبی کو سر انجام دیتے ہیں ۔ ابتداء ان کی ہوتی ہے اور انجام متقیوں کا ۔ والعاقبۃللمتقین (الاعراف : ۱۲۹ ) ۱؎