قائدہ کی بات ہے کہ خوبی بجائے خود دل کو اپوی طرف کھینچ لیتی ہے ۔خوبی میں ایک مقناطیسی جذب ہے جو دلو ں کو کھینچتی ہے ؔجیسے موتی کی آب ۔گھوڑے کی خوبصورتی ،لباس کی چمک دمک ،غرض یہ حُسن پھولوں ۔پتوں ،پتھروں ،حیوانات ،نباتات ، جمادات کس چیز میں ہو اس کا خاصہ ہے کے بے اختیار دل کو کھینچتاہے ۔ پس خداتعالیٰ نے پہلہ مرحلہ اپنی خدائی منوانے کاحُسن رکھاہے جب
الحمداللہ
فرمایا کہ جمیع اقسام حمدوستائش اسی کے سزاوار ہیں ۔
پھر دوسرا درجہ احسان کا ہوتاہے انسان جیسے حُسن پرمائل ہوتاہے اس لیے پھراللہ تعالیٰ نے
رب العالمین۔الرحمن۔الرحیم۔ملک یوم الدین ۔
صفات کو بیان کر کے اپنے احسان جکی طر ف توجہ دلائی ۔لیکن انسان کا مادہ ایساہی خراب ہو اور وہ حُسن اور احسان سے بھی سمجھ نہ سکے تو پھر تیسراذریعہ سورۃفاتحہ میں
غیر المغضوب
کہہ کر تنبیہہ کیا ہے ۔ اعلیٰ درجہ کے کوگ ت وحُسن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور جو اُن سے کم درجہ پر ہوں وہ احسان سے فائدہ اُٹھالیتے ہیں ۔ لیکن جو ایسے ہی پلید طبع ہوں اُن کو اپنے جلال اور غضب سے متوجہ کیا ہے ۔ یہودیوں کو مغضوب کہاہے او ران پر طاعون ہی پڑی تھی ۔ خداتعالیٰ نے سورۃفاتحہ میں یہودیوں کی راہ اختیار کرنے سے منع فرمایا ۔ یا یوں کہوکہ طاعون کے عذاب شدید سے ڈرایا ہے ۔ شیطان بیباک انسان پرایساسوار ہو ہے کہ وہ سُن لیتے ہیں ،مگر عمل نہیںکرتے ۔اصل یہ ہے کہ جذبات اور شہوات پر ایک موت وارد ہو کر اُنہیں بالکل سرد نہ کردے ۔ خداتعالیٰ پر ایمان لانا مشکل ہے ۔اب تو غذب ال۶ہی کے نمونے خطرناک ہیں ابھی تین مہینے باقی ہیں خداجانے کیا ہونے والا ہے۔
مخالفین کے لیے لمحہ فِکریّہ
مخالفین کی خطرناک فحش وتحریروں پر فرمایا:
کہ ہمارے اور اُن کے دل اللہ تعالیٰ ہی کہ ہاتھ میں ہیں ۔ خداتعالیٰ نیّتوں کو خوب جانتا ہے او ران افعا ل کو جو ہم کر رہے ہیں دیکھتا ہے ۔ وہ خود فیصلہ کر دے گا او رسچائی پر اپنی مُہر کر دے گا ۔ ہم کو تویہ تعجب آتاہے اگر یہ لوگ تقویٰ اور خداترسی سے کا م لیتے تو خوف کے محل اور مقام سے ڈر جاتے اور مخالفت میں اس قدر زبان درازی نہ کرتے ج۔ وہ دیکھتے کیا وہ وقت نہیں آیا ۔ مسیح موعود نازل ہو ؟ کیا صلیب کا غلبہ نہیں ؟ کیا اسلامؔکی توہین اور تضحیک نہیں کی جاتی ؟وہ دیکھتے کہ صدی میں انیس سال گزر گئے اور کوئی مدعی کھڑانہ ہو ا۔جو درماندہ اسلام کی حمایت کے لیے میدان میں آتا ۔
پھر ضرورت اور وقت ہی اپنی نگاہ محدود نہ کرتے اگر وہ غور کرتے تو اُن کو معلوم ہوتا کہ آسمان نے