عبودیت کی مثال عورت کی سی ہوتی ہے کہ جیسے وہ حیااور شرم کے ساتھ رہتی ہے اور جب مرد بیاہنے جاتاہے تو ،وہ علانیہ جاتاہے ۔ اسی طرح پرعبودیت پروہ خفاء میں ہوتی ہے ۔لیکن اُلوہیت جب اپنی تجلی کرتی ہے تووہ پھر ایک بینؔامر ہوجاتاہے۔ اور ان تعلقات کاجو ایک سچّے مومن اور عبد اور اس کے ربّ میں ہوتے ہیں خارق عادت نشانات کے ذریعہ ظہور ہوتاہے ۔ انبیاء علیہ السلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ کل انبیا ء علیہم السلام سے بڑے ہوئے تھے ۔ اس لیے آپ کے معجزات ہی سب سے بڑے ہوئے ہیں۔۱؎
۱؎ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲صفحہ۳،۴ پرچہ ۳۱ مارچ۱۹۰۳ء
۱۵جنوری ۱۹۰۲ء (شب)
طاعُون اور لوگوں کی حالت
طاعون کی خبریں سن کر فرمایا :
’’یہ خداکی طرف کس قدر تنبیہہ ہے اگر اب بھی دل بیدار نہ ہوں اور اب بھی خداسے صلح کا عہد باندھنے کے لیے مستعد نہ ہوں تو کیسی بد قسممتی ہے ۔ افسو س ہے کہ لوگ اب بھی خداتعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اور فسق و فجور اور شوخیوں سے با زنہیں آتے ۔ اگر کسی کی اولاد اور عزیزوں پر آفت آجاوے ۔ تو ساری باتیں رہ جائیں۔پھر کس شیخی اور بھروسہ پر انسان خداسے اس قدر سر کشی کرتاہے؟وہ اُس کی حکومت سے بھاگ کر نہیں جاسکتا۔ جب یہ حال ہے توسب سے بہتر اور محفوظ طریق عذاب ِالٰہی سے بچنے کا توخود اُس کی ہی پناہ میں آتاہے ۔وہ احمق ہے جو خدا کے حدود ک وتوڑکر نکلتاہے اس لیے کے ایمان پاوے وہ مصیبت کو بلاتاہے اور عذاب کو جذب کرتاہے ۔ اب وقت ہے کے مسلمان اپنے ایمان اور توبہ کی تجدید کریں۔یہ وقت آیاہے کے خدااپنا وجود دکھاناچاہتاہے اور اپنی ہستی کو منواناچاہتاہے ۔
ایمان باللہ کی تین ذرائع
اللہ تعالیٰ پرایمان لانے اور اس کو مستحکم اور مضبوط کرنے کی تین صورتیں ہیں اور خداتعالیٰ نے وہ تینوں ہی سُورۃافاتحہ میں بیان کردی ہیں :
اوّل۔ للہ تعالیٰنے اپنے حُسن کو دکھایا ہے جب کے جمیع محامد کے ساتھ اپنے آپ کو مُتّصِف کیاہے ۔ یہ