قد جرت عا دۃ اللہ انہ لا ینفع الا موات الا الدعاء اس وقت رات کے تین بجے ہوں گے ۔حضرت اقدس فرما تے ہیں کہ اس وقت پر میں نے دعا کی تو یہ الہام ہوا: فکلمہ من کل باب ولن ینفعہ الا ھذا الدواء (ا ی الدعاء) اور پھر ایک اور الہا م اسی عرب کے متعلق ہواکہ: فیتبع القرآن کتا ب اللہ کتاب الصادق۔ چنانچہ ۹ جنوری۱۹۰۲؁ء کی صبح کو جب آپ ؑ سیر کو نکلے توحضرت اقدس ؑنے عربی زبان میں ایک تقر یر فرمائی ۔جس سلسلہ محمدیہ اور مو سویہ کی مشابہت کو بتایا اور پھر سورہ ٔنور کی آیت استخلاف اور سورۂ تحر یم سے اپنے دعاوی پر دلائل پیش کیے اور قرآن شریف اور احادیث کے مراتب بتائے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ عرب صاحب جو بڑے جوش سے بو لتے تھے بالکل صاف ہو گئے اور انہوںنے صدق دل سے بیعت کی اور ایک اشتہار بھی شائع کیا اور بڑے جوش کے ساتھ ا پنے ملک کی طرف بغرض تبلیغ چلے گئے ، چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کلا م تھا ۔ہم نے اس کی عزت وعظمت کے لحاظ سے ضروری سمجھا کہ گو پرانا الہام ہے ، لیکن چونکہ آجتک یہ سلسلہ اشاعت میں نہیں آیا ۔اس کو شا ئع کر دیا جاوے۔ نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں ؟ اس سوال کاجواب حضرت حجۃاللہ علیہ السلام نے ایک بار اپنی ایک مختصر تقریر میں دیاہے ۔فرمایا: ’’نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں ۔ جس کے اعمال بجائے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ جائیں ۔مثلاًایک شخص خداتعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرتاہے ۔ وہ ایسی وفاداری کرے کہ اُس کی وفاخارق ہوجاوے ۔اُس کی محبت اُس کی خارق عادت ہو ۔ہر شخص ایثار کرسکتاہے اور کرتابھی ہے ،لیکن اس ایثار کاخارق عادت ہو ۔غرض اس کے اخلاق ۔عبادات اور سب تعلقات جو خداتعالیٰ کے ساتھ رکھتاہے اپنے اندر ایک خارق عادت نمونہ پیداکریں ۔ تو چونکہ خارق عادت کاجواب خارق عادت ہوتاہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کرنے لگتاہے ۔ پس جوچاہتاہے کہ اس سے نشانات کاصدور ہو تو اس کو چاہئیے کے اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کے ان میں خارق عادت نتائج کے جذب کی قوت پیداہونے لگے ۔ انبیاء علیہ السلام میں یہی ایک نرالی بات ہوتی ہے ان کا تعلق اندرونی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایساشدید ہوتاہے کہ دوسرے کسی کاہر گز نہیں ہوتا۔ ان کی عبودیت ایسارشتہ دکھاتی ہے کہ کسی اور کی عبودیت نہیں دکھاسکتی ۔ پس اس کے مقابلے میں ربُو بیّت اپنی تجلی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور نگ کاکرتی ہے ۔